BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 March, 2004, 00:41 GMT 05:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا میں عارضی فائر بندی
News image
اطلاعات کے مطابق وانا آپریش کے دوران کئی عام قبائلی بھی ہلاک، زخمی اور بے گھر ہوے ہیں۔
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اعظم ورسک کے نواح میں مورچہ بند مبینہ القاعدہ اور طالبان ارکان سے مذاکرات کے لئے ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اعظم خان نے بائیس نمائندہ قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا ہے جو پیر کے روز اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا جہاں مذکورہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اس آپریشن کے نگراں بریگیڈیئر محمود شاہ نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر چند گھنٹوں کے لئے عارضی فائر بندی ہوگی تاکہ جرگہ مذکورہ علاقے میں جا سکے۔

ان کے بقول پولیٹکل انتظامیہ نے چند آپریش کے خاتمہ کے لئے تین شرائط رکھی ہیں۔

پہلی شرط: فرنٹئر کانسٹبلری کے بارہ سپاہی اور مقامی انتظامیہ کے دو لاپتہ تحصیلداروں کو، اگر وہ ان مبینہ شدت پسندوں کے قبضے ہیں، حکومت کے حوالے کرے۔

دوسری شرط: غیر ملکیوں کو پناہ دینے والے یارگل خیل قبیلے کے افراد کو حکومت کے حوالے کرے، اور اگر یارگل خیل اور ذلی خیل قبیلے والے خود کو ان افراد کے سامنے بے بس سمجھتے ہیں تو حکومت کے سامنے ان کی نشاندہی کرے تاکہ حکومت طاقت کے روز پر انہیں مطیع کرے۔

تیسری شرط: غیر ملکیوں کو حکومت کے حوالے کرے، اور اگر جرگہ کے لئے یہ ممکن نہیں تو ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے تاکہ حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے۔

بریگیڈیئر محمود نے کہا کہ یہ جرگہ ایک طرح سے اتمام حجت کے لئے روانہ کیا جا رہا ہے کیونکہ آل قبائل کے جرگے نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ اس مسئلہ کو قبائلی روایات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

محمود شاہ کا کہنا تھا کہ اگر جرگہ ناکام لوٹا تو آپریش پھر سے شروع کر دیا جائے گا اور اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اتوار کے روز ہونے والی کارروائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد کے کئی گھروں پر قبضہ کرکے انہیں مسمار کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سب سے اہم گھر نور اسلام نامی شخص کا ہے جس میں چند سرنگیں ملی ہیں جن کی تحقیق کی جا رہی ہے۔

گزشتہ چار، پانچ روز سے جاری اس آپریشن میں اب تک متعدد افراد ہلاک، زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں جن میں مقامی آبادی کے عام شہری، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ شاید اس علاقہ میں القاعدہ کے نائب ایمن الظواہری روپوش ہیں تاہم اب حکام کہتے ہیں کہ اس کا امکان کم ہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد