وانا آپریشن کی شدت میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مشتبہ القاعدہ کے ارکان کے خلاف لڑائی میں کمی آئی ہے البتہ اکا دکا مقامات پر ہلکے اسلحے سے مزاحمت جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آج تازہ لڑائی میں دو غیرملکی، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ چیچن ہیں ہلاک ہوئے ہیں۔ مزیدگرفتاریوں کی اطلاع نہیں البتہ حراست میں لئے جانےوالوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکومت نے یرغمال بنائے گئے سرکاری افراد کی رہائی تک جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے۔ پشاور میں اتوار کو صحافیوں کو جنوبی وزیرستان میں جاری عسکری کاروائی کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے سیکرٹری بریگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا کہ اتوار کو ایک تازہ جھڑپ میں دو مزید غیرملکی، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ چیچن ہیں، بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔ ان کی لاشیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ اس طرح اب تک حکام کے مطابق چار روز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے غیرملکیوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم ہفتے کے روز حراست میں لئے گئے سو افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ محمود شاہ نے کہا کہ فوج نے اب بھاری اسلحے کا استعمال بند کر دیا ہے البتہ مکانات کی تلاشی کے دوران ہلکے ہتھیاروں سے حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں سے فوجیوں پر حملے ہوئے تھے وہاں کے مکانات کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ وانا میں قبائلی جرگے کے ذریعے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوششوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قبائلیوں کے سامنے تین شرائط رکھی ہیں۔ محمود شاہ نے بتایا کہ ان شرائط میں بارہ لاپتہ سپاہیوں اور دو تحصیلداروں کو (اگر وہ ان کے قبضے میں ہیں) حکام کے حوالے کرنے، مزاحمت کرنے والوں کو ہتھیار ڈالنے اور غیرملکیوں کو علاقہ چھوڑ دینے کے مطالبات شامل ہیں۔ محمود شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت فی الوقت جنگ بندی کے لئے بلکل تیار نہیں اور قبائلیوں کو یہ تین شرائط ہر حال میں ماننی ہونگیں۔ آج اخبارات میں بارہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کرنے سے انہوں نے گریز کیا اور کہا کہ یہ تصدیق صرف فوجی حکام کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیر کور کو کوئی تازہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ گرفتار افراد کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ یا ایمن الزوہری کے بارے میں معلومات درست نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان سے القاعدہ کا صفایا کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ دریں اثنا صوبہ سرحد میں حکمراں جماعت جمعیت علما اسلام نے مختلف پشاور سمیت مقامات پر وانا آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ مظاہرین نے فوجی کاروائی کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ اس سے عام لوگ متاثر ہورہے ہیں اور لوگوں میں بےچینی بڑھ رہی ہے۔ مظاہرین نے امریکہ اور پاکستانی حکومتوں کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||