BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 March, 2004, 02:49 GMT 07:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا:گرفتار شدگان سے تفتیش
News image
قبائلی عمائدین نے فائربندی کے لیے کہا ہے
پاکستانی حکام نے جنوبی وزیرستان سے حراست میں لئے گئے شدت پسندوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے ۔

پاکستان فوجی پاکستان اور افغانستان سرحد کے قریب گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

حکام کی جانب سے اس بات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لئے قبائلی سرداروں کی حمایت بھی حاصل ہو جائے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وانا کے اس علاقے میں جہاں فوجی کارروائی جاری ہے، پانچ سو کے قریب شدت پسند موجود ہیں۔ حکام یہ کہتے ہیں کہ ان افراد میں غالباً القاعدہ تنظیم کے سینیئر کارکن بھی ہیں تاہم یہ امکان کم ہے کہ ایمن الزواہری بھی جو اسامہ بن لادن کے نائب سمجھے جاتے ہیں،ان شدت پسندوں کے درمیان ہوں ۔

جنوبی وزیرستان میں مبینہ القاعدہ اور طالبان ارکان کے خلاف پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ہے تاہم گزشتہ رات دونوں جانب سے فائرنگ نہیں کی گئی۔

ادھر آج ایجنسی کے ہیڈکوارٹر وانا میں قبائلی عمائدین اور پولیٹکل حکام کے مابین ایک جرگہ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ ایجنسی میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

اس کارروائی کے نگراں بریگیڈیئر محمود شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اتوار کی شام تک کارروائی مکمل ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وانا میں پولیٹکل حکام اور قبائلیوں کے درمیان ایک جرگہ بھی ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ تاخیر ہوجائے۔

وانا میں موجود صحافی اویس توحید نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ شام تقریباً ایک سو پانچ قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک وفد وانا پہنچا تھا جس میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی بھی شامل ہیں۔

اویس توحید کا کہنا ہے کہ غالباً ان ہی عمائدین کے کہنے پر گزشتہ رات غیر اعلانیہ فائربندی کی گئی ہے۔

ان کے مطابق علاقے کے لوگ پچھلی تین چار راتوں کے دوران پہلی بار سکون سے سوئے کیونکہ کسی طرف سے فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔

اس سے قبل سنیچر کے روز ایک گاڑی گولہ باری کی زد میں آگئی جس میں سوار بارہ افراد ہلاک ہوگئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گاڑی پر پاکستانی فوج کے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر نے حملہ کیا تھا جبکہ سرکاری حکام اس کی تردید کر رہے ہیں۔

بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مذکورہ گاڑی دوسری جانب سے ہونے والی گولہ باری کی زد میں آگئی ہو کیونکہ جو وقت بیان کیا جا رہا ہے اس وقت کوئی گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نہیں تھا۔

دریں اثناء پاکستانی افواج نے اس آپریشن کے دوران تقریباً ایک سو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباً پانچ سو عسکریت پسند افغان سرحد کے نزدیک ایک مٹی کے قلعے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان افراد میں القاعدہ کے ایک اعلیٰ رہنما کی موجودگی کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ یہ اسامہ بن لادن یا ایمن الزواہری ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد