BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 April, 2006, 05:36 GMT 10:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
16 قبائلی ہلاک، 19 گرفتار: ترجمان

شمالی وزیرستان
علاقے سے ایک بار پھر لوگوں کا انخلا شروع ہوگیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپوں میں چار فوجیوں کے علاوہ سولہ قبائلی ہلاک ہوئے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق یہ تصادم پہاڑی علاقے شوال اور دتہ خیل کے علاقوں میں ہوا۔ تاہم قبائلیوں کے ایک ترجمان کے مطابق انہیں کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے تصدیق کی ہے کہ وزیرستان میں جاری مسلح کارروائی کے نتیجے میں سولہ قبائلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آٹھ کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ 19 کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ شوکت سلطان کے مطابق یہ کارروائی حملہ آوروں کی جانب سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں کی گئی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر تازہ حملے دتہ خیل اور شوال کے علاقوں میں کل رات ہوئے۔ نامعلوم افراد نے رات گئے فوجی ٹھکانوں پر راکٹ فائر کیئے جس کے نتیجے میں شوال میں تین فوجی جوان ہلاک اور دو زخمی ہو گئے جبکہ دتا خیل میں بھی دو فوجی جوان شدید زخمی ہوئے۔

سکیورٹی فورسز نے بدھ کو دن بھر علاقے میں مشتبہ حملہ آوروں کا گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تعاقب کیا اور چار گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کے دوران مشتبہ افراد کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ کئی مکانات کی تلاشی بھی لی گئی جس کے دوران بھاری تعداد میں اسلحہ ان کے ہاتھ لگا ہے۔

میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا تھا جسے ضائع کردیا گیا ہے جبکہ اسلحہ کے مشتبہ کمپاؤنڈ بھی تباہ کردیئے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں سولہ افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ مزید ایک فوجی آج ہلاک ہوا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ شوال اور دتا خیل میں کارروائی بدھ کی سہ پہر اختتام کو پہنچی۔

انہوں نے آٹھ مشتبہ شدت پسندوں کی لاشوں کو بھی قبضے میں لینے کا دعوٰی کیا ہے۔ ان لاشوں اور گرفتار افراد کو میران شاہ لایا گیا ہے۔

ادھر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت کے خلاف سرگرم عناصر نے تازہ جھڑپ میں کسی ساتھی کی ہلاکت سے انکار کیا ہے۔ مزاحمت کاروں کے ترجمان طارق جمیل نے ٹیلیفون پر کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ ہلاک ہونے والے عام دیہاتی تھے اور ان کے ساتھی تقریبًا تین گھنٹوں کی لڑائی کے بعد بخیریت واپس لوٹ گئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ حملے گزشتہ پیر میر علی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ان کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کا بدلہ تھا۔ ’جب تک حکومت کا ظلم اور کارروائیاں جاری رہیں گی ہم بھی اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائیں گے‘۔

انہوں نے فوجیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا بھی دعوٰی کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد