متوازی حکومت نہیں بنائی: محسود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک رہنما بیت اللہ محسود نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ انہوں نے وزیرستان میں متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ جنوبی شہر ٹانک میں منگل کے روز مقامی صحافیوں کو جاری کیئے گئے ایک تحریری بیان میں بیت اللہ محسود کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں متوازی حکومت کے بارے میں جاری ’زہریلہ پروپیگنڈا پاکستان اور اسلام دشمن قوتیں کر رہی ہیں جس میں کوئی صداقت نہیں‘۔ بیت اللہ محسود نے گزشتہ برس فروری میں جنوبی وزیرستان میں سراروغہ کے مقام پر حکومت سے امن معاہدہ کر لیا تھا۔ اس بیان میں پشاور کے ایک اردو اخبار کا خصوصی ذکر کیا گیا جس میں ایک مضمون میں کالم نگار نے وزیرستان میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ بیت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ علاقے میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ’پاکستان ہمارا ملک ہے جس کے آئین کی پاسداری ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔’ بیت اللہ کا کہنا تھا کہ ’علاقے کو بدامنی، ڈاکو راج اور منشیات جیسی لعنت سے پاک کرنے کے لئے مقامی لوگوں کے شدید اصرار پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے امن کو یقنی بنایا گیا۔ اسے متوازی حکومت کا نام دینا حقائق سے چشم پوشی ہے‘۔ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دنوں مقامی علما اور طالبان نے امن کے قیام کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں اس کمیٹی نے وانا میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قاتل کو موت کی سزا دی تھی۔ بیت اللہ حکومت سے معاہدے کے بعد سے ذرائع ابلاغ سے دور ہی رہے ہیں۔ اس سے قبل ایک بار ہی حکومت سے کسی بات پر رنجش پر انہوں نے بیان دیا تھا۔ | اسی بارے میں شوریٰ کا فیصلہ، گولی ماردی گئی27 March, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن میں ٹرانسمٹر تباہ31 March, 2006 | پاکستان وزیرستان: حکومت کےحامی عالم قتل02 April, 2006 | پاکستان طالبان: ہلاکتوں کی تصدیق03 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: ’القاعدہ کمانڈر‘ ہلاک02 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: ہمارے نامہ نگار کی آپ بیتی06 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||