وزیرستان: ’القاعدہ کمانڈر‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ کو ہلاک ہونے والے پینتالیس سے زائد افراد میں القاعدہ کا ایک چچن کمانڈر اسد بھی شامل ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اسد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوا۔ اس کے نام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کے کئی نام ہوتے ہیں لیکن اسے اس کے ساتھی ’امیر‘ کے نام سے بلاتے تھے۔ شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ خفیہ رپورٹوں کے مطابق اسے چچن ظاہر کیا گیا ہے۔ شوکت سلطان کے بقول ہر دہشت گرد کی ہلاکت ان کے لیے اہم ہے۔ حکام نے بدھ کی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب پینتالیس بتائی ہے۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ اس میں عام شہری بھی شامل ہیں یا نہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ڈانڈے سیدگئی کے علاقے میں اس کارروائی میں ایک فوجی ہلاک جبکہ پندرہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ جمعرات کو بھی میران شاہ اور میر علی سمیت کئی علاقوں کے ٹیلیفون خراب ہیں۔ جس کی وجہ سے تازہ حالات جاننے میں دقت پیش آ رہی ہے تاہم سرکاری ٹیلی فون کام کر رہے ہیں لیکن اہلکار بات کے لیے موجود نہیں ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق کارروائی مشتبہ شدت پسندوں کے ایک تربیتی کیمپ کے خلاف ہوئی تھی۔ فوجی حکام کے مطابق یہ ایک مقامی قبائلی نور پیو خان کا مکان تھا۔ میران شاہ اور دیگر علاقوں سے نقل مکانی کی بھی اطلاعات ہیں۔ لوگ مزید لڑائی اور حملوں کے خوف سے محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان: دو ہلاک، ایک زخمی04 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: ’بھتہ خوروں‘ کے سر قلم09 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: ایف سی کا اہلکار ہلاک29 December, 2005 | پاکستان شمالی وزیرستان: فائرنگ سے 4 زخمی15 January, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایک فوجی ہلاک30 January, 2006 | پاکستان وزیرستان: تین سپاہی ہلاک04 February, 2006 | پاکستان ’وزیرستان، فوجی کارروائیاں معطل‘23 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||