فاٹا: کونسلروں کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں کے منتخب کونسلروں نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اختیارات نہ ملنے کی صورت میں وہ پندرہ مارچ کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں آل فاٹا کونسلرز الائنس کے عہدیداروں نے اس بات پر افسوس کیا کہ ڈیڑھ برس گزر جانے کے باوجود انہیں ابھی تک نہ کوئی اختیار ملا ہے، نہ ان سے مشاورت کی گئی ہے۔ صدر پرویز مشرف کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے اپنے منصوبے کے تحت سنہ دو ہزار چار میں ایجنسی کونسلوں کے قیام کے لیئے چار سو پچاس کونسلروں کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔ ان کونسلوں کے قیام کا مقصدمقامی قبائلیوں کو علاقے کے ترقیاتی منصوبوں میں ساتھ لے کر چلنا تھا۔ لیکن اس انتخاب کے بعد سے اب تک یہ کونسلر بے کار بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے منتخب ہونے کا نوٹفیکیشن بھی جاری نہیں کیا جا سکا ہے۔ آل فاٹا کونسلرز الائنس کے چیرمین عمل جان محسود اور دیگر رہنماؤں نے الزام لگایا کہ نوکر شاہی انہیں اختیارات کی منتقلی کی سب سے بڑی روکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے موجودہ گورنر خلیل الرحمان کو بھی اس تاخیر کا برابر ذمہ دار قرار دیا۔ قبائلی کونسلروں کا کہنا تھا کہ وہ صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے لیئے دو مرتبہ اسلام آباد جا چکے ہیں لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مستعفی ہونے کی بھی دھمکی دی ہے لیکن اس بارے میں وقت کا تعین انہوں نے نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: بحث نہیں، واک آؤٹ13 September, 2004 | پاکستان وزیرستان اندراج پر مشروط آمادگی 09 July, 2004 | پاکستان قبائلیوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں30 May, 2004 | پاکستان ایف سی کے تین اہلکار لاپتہ،دو زخمی20 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||