BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان اندراج پر مشروط آمادگی

مشروط آمادگی
اس سے پہلے آپریشن میں فوج نے کئی افراد کوغیر ملکی ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب دو قبائلیوں نے آج احمدزئی وزیر قبیلے کے عمائدین سے ملاقات کی اور غیرملکیوں کے مشروط اندراج پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

البتہ ان کے حکام کے حوالے ہونے یا کیے جانے کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

احمدزئی وزیر قبائل کے عمائدین، مقامی اراکین قومی اسمبلی اور لشکر کی چھتیس رکنی کمیٹی کے نمائندوں نے حکومت کو مطلوب مولوی عباس اور محمد جاوید سے وانا کے قریب شولم کے علاقے میں ملاقات کی۔

یہ اہم ملاقات حکومت کی جانب سے احمدزئی وزیر قبائل کی گئی دس جولائی تک کی مہلت کے خاتمے سے ایک روز قبل ہوئی ہے۔

ذرائع نے وانا میں بتایا کہ مولوی عباس اور محمد جاوید نے علاقے میں موجود غیرملکی عناصر کے اندراج کے لیے مشروط رضامندی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی اس شرط پر اپنی تفصیلات حکومت کو دینے پر آمادہ ہیں کہ اس کے لیے انہیں خود سرکاری اہلکاروں کے سامنے پیش نہیں ہونا پڑے گا۔

تاہم اس قسم کی نیم رضامندی نیک محمد کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی سامنے آئی تھی لیکن بعد میں مذاکرات پٹری سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اتر گئے تھے۔

توقعات کے برعکس آج مولوی عباس یا محمد جاوید کی جانب سے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کے معاملے میں کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی۔

اب احمدزئی وزیر قبائل کا چار ہزار کا لشکر کل وانا میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اکھٹا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد