وانا میں مکمل خاموشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باغی قبائلی رہنما نیک محمد کی ہلاکت کے بعد وانا اور جنوبی وزیرستان میں مکمل خاموشی ہے اور دوسری طرف ان کے ساتھیوں کی طرف سے جوابی حملے کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے زبردست حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ افغان اور قبائلی امور کے تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نیک محمد کی تنظیم کی طرف سے جوابی کارروائی کس شکل میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو نیک محمد کی تنظیم نئے رہنما یا کمانڈر کا انتخاب کرے گی۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ نیک محمد کے ساتھ مطلوب چار افراد جن میں شریف، نور اسلام، مولوی عباس اور مولوی عبدالعزیز شامل ہیں خیریت سے ہیں اور اسی علاقے میں موجود ہیں۔ نیک محمد کی ہلاکت کے بعد وانا اور جنوبی وزیرستان کی صورت حال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ علاقے میں مکمل خاموشی ہے اور ابھی تک لوگ اس صدمے سے نکل نہیں پائے ہیں۔ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ علاقے میں لوگ ابھی اس حملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام خیال یہی ہے کہ اس حملے میں امریکی فوج نے پاکستانی فوج کی معاونت کی تھی جس کے بغیر یہ حملے ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس میزائیل حملے سے قبل وانا کی فضاؤں میں ایک بغیر پائلٹ کا جہاز دیکھا گیا تھا جس نے اس میزائیل کی ہدف تک پہنچنے میں رہنمائی کی تھی۔ رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ یہ میزائیل ٹھیک نشانے پر لگا۔ حملے کے وقت نیک محمد گھر کے باغیچے میں اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس حملے میں گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا صرف نیک محمد اور ان کے پانچ ساتھی ہلاک ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||