بیت اللہ کا فوجی انخلاء کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود نے پاکستان فوج کے علاقے سے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی سے ٹیلیفون پر کیئے جانے والےایک خصوصی انٹرویو میں بیت اللہ محسود نے گزشتہ بدھ شمالی وزیرستان میں ہونے والی جھڑپوں پر بھی روشنی ڈالی اور چند وضاحتیں کیں۔ تیس سالہ بیت اللہ نے گزشتہ برس فروری میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیئے تھے۔ چھوٹے قد اور سیاہ داڑھی رکھنے والے بیت اللہ کا کہنا تھا کہ فوج کا انخلاء اس امن معاہدے کا حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قبائل، اکیس رکنی مصالحتی کمیٹی، حکومت اور فوجی حکام سے بار بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ فوجی کی واپسی کو ممکن بنائیں لیکن انہوں نے شکایت کی کہ کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بار بار کہا کہ ہمارے ساتھی پکڑے جا رہے ہیں۔ کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ ہم نے بار بار انٹرویو میں بھی یہی بات کی لیکن ہماری کسی نے نہ سنی۔ ہمارے ساتھیوں کو تکلیف دی جا رہی ہے‘۔ بیت اللہ محسود نے کہا کہ انہوں نے سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیٹ جنرل صفدر حسین کو بھی بتایا کہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں ہوا۔ ’اگرچہ صفدر حسین اس معاہدے میں مخلص تھا۔ لیکن دوسرے ادارے آئی ایس آئی یا دوسری خفیہ ایجنسیاں یا ادارے بلکل مخلص نہیں ہیں۔ ہمیں جنگ کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کئی ماہ قبل بھی وہ لوڑ کے علاقے میں افغانستان سے لوٹ رہے تھے کہ ان کے ساتھیوں پر پاکستان فوج نے ایسے ہی حملہ کیا اور دو کو ہلاک کر دیا۔ بیت اللہ محسود نے الزام لگایا کہ پاکستان فوج نے اس مرتبہ ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے بعد حراست میں ہلاک کیا۔ ’اس جیسی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ اپنے ہی جوانوں کو قیدی بنا کر شہید کیا جائے‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بدھ کی لڑائی میں ان کے آٹھ ساتھیوں کو ہلاک جبکہ دس کو گرفتار کیا گیا تاہم انہوں نے سکیورٹی فورسز کو بڑا نقصان پہنچانے کا دعوی کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ وہ فوج کی موجودگی کے اتنے مخالف کیوں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فوج صرف القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کے لیئے وہاں آئی ہے، بیت اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی جنگ پاکستان کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ کوئی اور کرتا ہے اور راستے میں حملے ہم پر کیئے جاتے ہیں۔ ان سے اس سرکاری بیان کے بارے میں دریافت کیا گیاجس میں انہوں نے اس حملہ آوروں کے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے آنے کا الزام لگایا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ’یہ افغانستان سے آ رہے تھے۔ یہ کفار کے علاقے سے آ رہے تھے۔ امریکیوں سے لڑ کر واپس آ رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا‘۔ حکومت نے جن قبائلیوں کے گزشتہ روز بیان میں نام لیئے تھے کہ وہ حملہ آوروں کی قیادت کر رہے تھے، بیت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ سب اس کے ساتھی ہے اور ان کے ہیرو ہیں۔ ’یہ کفر کے خلاف سخت ترین لوگ ہیں‘۔ عبداللہ سے ان کے اس اعتراف کے بارے میں کہ ان کے ساتھی افغانستان میں لڑ کر لوٹ رہے تھے آیا درست ہے، بیت اللہ کا کہنا تھا ’ہم بڑے شوق سے، بڑی محبت سے، بڑی دلیری سے کفار کے خلاف لڑتے رہیں گے اور لڑتے رہیں گے‘۔ انٹرویو کے آغاز پر بیت اللہ نے ایک شعر پڑھا ارادے جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو | اسی بارے میں معافی نہیں مانگی: بیت اللہ محسود24 December, 2004 | پاکستان ’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘09 February, 2005 | پاکستان محسود جنگجو، جنگ کی دھمکی27 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||