BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ

یوم سیاہ
یوم سیاہ کے موقع پر اسلام آباد میں صحافیوں کا مظاہرہ
قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے صحافی حیات اللہ کے قتل پر پیر کے روز پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یعنی ’پی ایف یو جے‘ نے ملک بھر میں یوم سیاہ منایا۔

اس موقع پر صحافیوں کی مقامی تنظیموں نے اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے، مظاہرے کیئے اور سیاہ پٹیاں باندھیں۔ اسلام آباد میں آر آئی یو جے نے قومی اسمبلی میں جاری بجٹ سیشن کے دوران پریس گیلری کا بائیکاٹ کیا۔ سندھ یونین آف جرنلسٹ نے کراچی میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اوراحتجاجی ریلی نکالی جس نے امریکی قونصلیٹ کی عمارت کی طرف مارچ کیا۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں تقریر کرتے ہوئے ’پی ایف یو جے‘ کے صدر شوکت پرویز نے اعلان کیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافی جب تک حیات اللہ کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے اس وقت تک قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن اور دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کا بائیکاٹ کریں گے۔

پرویز شوکت نے حیات اللہ کے قتل کی تحقیقات کھلی عدالت میں کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ حیات اللہ کے لواحقین کے لیئے اعلان کردہ حکومتی پیکیج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکیج ابتدائی ہے اور اُسے وہ بعد میں صحافیوں کے نمائندوں کی مشاورت سے بڑھائیں گے

صحافیوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے جج کی بجائے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے اور اُسے مقررہ مدت کے اندر حقائق سامنے لانے کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانچ لاکھ کے بجائے معاوضہ بڑھایا جائے اور ان کے بچوں کو کالج کی سطح تک مفت تعلیم کے بعد انہیں ملازمت دینے کا اعلان کیا جائے۔

اسلام آباد کے صحافیوں نے پیر کے روز قومی اسمبلی کی پریس گیلری کا بائیکاٹ کیا تو سپیکر نے ایوان کو بتایا کہ انہیں وزیراعظم نے بتایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات ہوگی۔ سپیکر نے کہا کہ صحافی ایوان کا حصہ ہیں اور ان کے بغیر کارروائی ادھوری ہوگی اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے تک ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔

لیکن صحافیوں نے حکومت پر معاملے کو طول دینے کا الزام لگایا اور گیلری کا بائیکاٹ جاری رکھا اور پارلیمان کے سامنے تیز دھوپ میں کافی دیر تک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

وزیراطلاعات محمد علی درانی جیسے ہی مظاہرین سے ملنے آئے تو اپنے ساتھی کے قتل پر جذباتی ہوکر صحافیوں نے ’قاتل قاتل حکومت قاتل، کے نعرے لگائے۔‘

جب وزیر اطلاعات نے تقریر کرنا چاہی تو صحافیوں نے زوردار انداز میں ’یہ کس کا لہو یہ کون مرا۔۔ بدمعاش حکومت بول ذرا‘ کے نعرے لگائے۔

صحافیوں نے اس ریلی میں حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی

وزیر اطلاعات نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکیج ابتدائی ہے اور اُسے وہ بعد میں صحافیوں کے نمائندوں کی مشاورت سے بڑھائیں گے۔ تاہم انہوں نے سخت لہجے میں صحافیوں سے کہا کہ وہ خود مدعی اور خود ہی عدالت نہ بنیں اور حکومت پر قتل کا فتویٰ جاری نہ کریں۔ جس پر صحافیوں نے پھر سے ’یہ کس کا لہو یہ کون مرا۔۔ بدمعاش حکومت بول ذرا۔‘ کے زوردار نعرے لگانا شروع کردیئے۔

صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت، حزب مخالف اور صحافیوں پر مشتمل ایک مشن تشکیل دیا جائے جو شمالی وزیرستان کے علاقے میں جاکر حیات اللہ کے قتل کے حقائق جان سکے۔ صحافیوں کے سینیئر رہنما سی آر شمسی نے کہا کہ اگر حکومت نے آئندہ چند روز میں یہ مشن تشکیل نہیں دیا تو صحافی خود ایسا مشن بنا کر وزیرستان جائیں گے۔

کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس نہیں تھا لیکن ’پی ایف یو جے‘ کی اپیل پر کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور صحافیوں نے حیات اللہ کے قتل میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں نے اپنی بازووں اور سروں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھیں تھیں۔ مظاہرین نے کتبے اور بینر بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ صحافیوں نے پریس کلب کوئٹہ سے جلوس نکالا اور میونسپل کارپوریشن کے سامنے سے ہوتے ہوئے عدالت روڈ تک گئے۔

اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذولفقار نے اپنی تقریر میں حکومت کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ حیات اللہ کی ہلاکت ایک بڑا المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی خفیہ ایجنسیوں کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ صحافی حیات اللہ کی بیوی اور دیگر صحافیوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں نے ہی غائب کیا تھا۔

لاہور میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی گیلری سے صحافیوں نے باہر نکل کر اسمبلی کے سامنے حیات اللہ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ مقررین نے شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ کے قتل کا شک ریاستی اداروں پر ظاہر کیا اور کہا کہ حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔

ملتان میں پریس کلب کے سامنے صحافیوں نے حیات اللہ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں نے حیات اللہ کے قتل کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔

صحافی حیات اللہصحافی کی موت
گورنر کی صحافییوں کے وفد سے ملاقات
اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد