’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی حیات اللہ کی بیوی نےالزام لگایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حیات اللہ سے القا عدہ کے اہم رکن ابوحمزہ کی امریکی حملے میں ہلاکت کی خبر چھپوا کر انھیں ایک سوجھی سمجھی سازش کے تحت اغواء کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سےبات کرتے ہوئے حیات اللہ کی بیوی مہرالنساء نے دعوی کیا کہ ابوحمزہ کی ہلاکت کے دوسرے روز یعنی دو دسمبر کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے رات کو فون کرکے خبر چپھوانے کا تقاضہ کیا۔ " رات کے تقریباً آٹھ بجے پاکستان کی خفیہ اداروں کے افسران نے بیس سے زیادہ بار فون کیا اور حیات اللہ سے کہا کہ ابو حمزہ امریکن گائیڈڈ میزائل کا نشان بنے ہیں لہذا آپ یہ خبر چھاپ دیں۔ میں نےحیات اللہ سے کہا کہ یہ آپکے دشمن ہیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ میں اب بھی ان حکومتی اہلکاروں کے نام جانتی ہوں جو حیات اللہ کے اغواء میں ملوث ہیں۔
مہرالنساء نے مزید بتایا کہ اس سے قبل حکومت کئی بار حیات اللہ کو صحافت چھوڑنے کی دھمکیاں دی چکی تھی اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ یا تو پولٹیکل مہرر کی نوکری قبول کرلیں یا پھر صحافت یا علاقہ چھوڑ دیں۔ مہرالنساء نے،جو میرعلی گرلز سکول میں استانی ہے، وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے حیات اللہ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے ردعمل میں کہا کہ شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کو حیات اللہ کے اغواء کا پورا علم تھا۔ ہم نے میڈیا کے ذریعے ان سے اپیلیں کیں اور میڈیا کے عالمی اداروں نے بھی اعلی حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انکی بازیابی کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں۔ مہرالنساء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حیات اللہ کے قاتلوں کو ہر حالت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انٹرویو کے دوران مہرالنساء کو گلے کی خرابی کی وجہ سے بولنے میں دقت پیش آرہی تھی۔کسی قبائلی خاتون کی طرف سے میڈیا کے ساتھ بات کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ مہرالنساء نے حیات اللہ کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ میں اگر مرگیا تو شہید اور اگر زندہ رہا تو ہیرو ہونگا‘۔ حیات اللہ کی ماں نے بھی بی بی سی سے اپنے بیٹے کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انکا بیٹا شہید ہے جنہوں نے حق کی خاطر قلم چلاتے ہوئے جان دی۔ ایک سوال پر کہ جب حیات اللہ کی موت کی خبر پہنچی توان پر کیا گزری تو انھوں نے کہا:’جونہی میں نے انکی لاش دیکھی تو انکی داڑھی بڑھی ہوئی تھی میں نے بنا روئے انکو مخاطب کرتے ہوے کہا حیات اللہ؛ تمہیں شہادت مبارک ہو،۔ | اسی بارے میں صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ قتل کی تحقیقات کا حکم17 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||