صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے صحافی حیات اللہ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اتوار کے روز کراچی میں جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی تنظیم ’سیفما‘ کی جانب سے ’الیکٹرانک میڈیا کا جائزہ‘ کے عنوان سے منعقد کردہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ رات انہوں نے عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ کس سطح کی عدالتی تحقیقات ہوگی۔ وزیراعظم نے حیات اللہ کے اہل خانہ کو پانچ لاکھ روپے امداد اور کالج کی سطح تک ان کے بچوں کو حکومتی خرچ پر مفت تعلیم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ قبل ازیں ’سیفما، کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے شمالی وزیرستان کے قتل کیے گئے صحافی حیات اللہ اور صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں ہلاک کیے گئے ٹی وی چینل ’کے ٹی این، کے کیمرا مین منیر سانگی کے اہل خانہ کو اپنی تنظیم کی جانب سے دو دو لاکھ روپےدینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ بھی مقتول صحافیوں کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے متعلق واضح بیان دیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں تو صرف حیات اللہ کا ذکر کیا لیکن منیر سانگی کے اہل خانہ کے لیے کچھ اعلان نہیں کیا۔ بعد میں کانفرنس کے منتظمین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دوبارہ وزیراعظم سے بات کی اور ان کے مطابق وزیراعظم نے منیر سانگی کے اہل خانہ کے لیے بھی پانچ لاکھ روپے کی امداد منظور کی۔ یاد رہے کہ ہفتے کوگورنر سرحد نے وفاقی دارالحکومت میں اطلاعات کے وزیر مملکت طارق عظیم کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں صحافی حیات اللہ کی موت کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے چھ ماہ قبل اغوا کیئے جانے والے صحافی حیات اللہ کی گولیوں سے چھلنی لاش جمعہ کو میر علی کے قریب سے ملی تھی۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ قتل کی تحقیقات کا حکم17 June, 2006 | پاکستان حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی16 June, 2006 | پاکستان ’منیر کےقاتل جلدگرفتار ہوں گے‘02 June, 2006 | پاکستان کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج31 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||