BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 June, 2006, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی

صحافی حیات اللہ (مرکز میں)
پیشہ ور صحافی کے لیئے بہت کم کوئی خبر ایسی ہوتی ہے جسے وہ رپورٹ نہیں کرنا چاہتا۔ نوجوان حیات اللہ کی ہلاکت بھی ایسی ہی ایک خبر تھی۔

اس کی گمشدگی سے لے کر آج تک دل میں کئی خدشات اور وسوسوں نے گھر کر رکھا تھا لیکن کہیں ایک کونے میں امید کی ایک کرن بھی تھی کہ اس ملک کا یہ بہادر اور نڈر سپوت شاید خیرو عافیت سے لوٹ آئے۔

اس کی ایک بات تاہم دل میں کھٹکتی ضرور رہتی تھی کہ عام قبائلیوں کی طرح اس کا خون بھی جلد گرم ہوتا تھا۔ وہ گرم مزاج کا مالک تھا۔ اس کے اغوا کے چھ ماہ کے دوران یہ خدشہ لگا رہا بلکہ بعض اوقات یقین بھی آجاتا کہ قبائلی علاقوں میں اتنی بڑی غیرمعمولی مدت تک لاپتہ رہنے والا حیات اللہ اپنے بولنے، اپنے سخت الفاظ کی وجہ سے آزادی نہیں پا رہا۔

لیکن صرف گرم مزاج ہی نہیں بلکہ ملنسار اور اچھا دوست بھی تھا۔ دیگر کئی قبائلی صحافیوں کی نسبت جن میں وزیرستان کا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے کے بعد قدرے لالچ آبسی تھی، حیات اللہ سے جب بھی کبھی کسی خبر کے سلسلے میں رابطہ کیا اسے مددگار پایا۔

دنیا میں لوگ صحافیوں کو بہت طاقتور اور بااثر سمجھتے ہیں۔ لیکن میں نہیں۔ یہ اس ملک میں صحافیوں کا حال ہے کہ دنیا بھر کے مظلوموں اور معصوموں کی خبریں تو اپنے اخبارات میں شائع کروا سکتے ہیں لیکن اپنے ویج بورڈ کے حق میں نہیں۔

حیات اللہ مددگار رہے
 کئی قبائلی صحافیوں کی نسبت جن میں وزیرستان کا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بننے کے بعد قدرے لالچ آبسی تھی، حیات اللہ سے جب بھی کبھی کسی خبر کے سلسلے میں رابطہ کیا اسے مددگار پایا۔
اس حکومت سے کیا شکوہ، کیا شکایت، صحافتی برادری نے بھی معمول کے چند بیانات یا احتجاجی مظاہرے منعقد کرکے سمجھا کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ اکثر صحافی سمجھتے ہیں اس کی خبر شائع کروا دی، بس کافی ہے اپنا کام پورا کر لیا۔ لیکن ایسے نازک معاملات میں ایک باضابطہ مہم کی ضرورت تھی، سرکاری اور شدت پسندوں کے بائیکاٹ کی ضرورت تھی۔ یہ ہم نہیں کر سکے۔

اب کل پھر ایک مرتبہ احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ جس کو جو کرنا تھا کر دیا۔ ہم اسے نہیں روک سکے تو اب چیخنے چلانے سے فائدہ؟ حیات اللہ تو واپس نہیں آسکتا۔

حیات کا بھائی اکثر مشورے کے لیئے ٹیلیفون کرتا رہتا تھا۔ اس کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی تھی۔ جو اپنی بساط کے مطابق بہتر سمجھتے اسے بتا دیتے۔ لیکن ان کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی۔ آخری دنوں میں تو حکومت نے اس کے بھائی سے ملاقاتوں سے بھی معذرت کر لی تھی۔

اس کے بھائی کا حیات اللہ کی موت پر انٹرویو سن کر دعا کی کہ اب احسان کو اللہ اپنی امان میں رکھے۔

اس ملک میں ایک اور ایسا قتل ہوا ہے جس کا شاید کبھی بھی قاتل معلوم نہ ہوسکے۔ کیا پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، کیا مرتضی بھٹو۔ کہتے ہیں اور شاید بالکل درست کہتے ہیں کہ اس ملک میں چڑیا مارنا مشکل اور انسان مارنا آسان ہے۔

یہ ایک ایسے دل کا بین ہے جو آج جانے کیوں پھٹ رہا ہے۔ یہ شاید غم ہے یا پھر بےبسی۔

اللہ اسے جوار رحمت میں جگہ دے۔ امین

ہم اس کے لیئے کچھ نہیں کر سکے۔ یہ خلش دل میں ضرور ساری عمر رہے گی۔

اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
کراچی میں آزادی صحافت ریلی
09 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد