حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیشہ ور صحافی کے لیئے بہت کم کوئی خبر ایسی ہوتی ہے جسے وہ رپورٹ نہیں کرنا چاہتا۔ نوجوان حیات اللہ کی ہلاکت بھی ایسی ہی ایک خبر تھی۔ اس کی گمشدگی سے لے کر آج تک دل میں کئی خدشات اور وسوسوں نے گھر کر رکھا تھا لیکن کہیں ایک کونے میں امید کی ایک کرن بھی تھی کہ اس ملک کا یہ بہادر اور نڈر سپوت شاید خیرو عافیت سے لوٹ آئے۔ اس کی ایک بات تاہم دل میں کھٹکتی ضرور رہتی تھی کہ عام قبائلیوں کی طرح اس کا خون بھی جلد گرم ہوتا تھا۔ وہ گرم مزاج کا مالک تھا۔ اس کے اغوا کے چھ ماہ کے دوران یہ خدشہ لگا رہا بلکہ بعض اوقات یقین بھی آجاتا کہ قبائلی علاقوں میں اتنی بڑی غیرمعمولی مدت تک لاپتہ رہنے والا حیات اللہ اپنے بولنے، اپنے سخت الفاظ کی وجہ سے آزادی نہیں پا رہا۔ لیکن صرف گرم مزاج ہی نہیں بلکہ ملنسار اور اچھا دوست بھی تھا۔ دیگر کئی قبائلی صحافیوں کی نسبت جن میں وزیرستان کا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے کے بعد قدرے لالچ آبسی تھی، حیات اللہ سے جب بھی کبھی کسی خبر کے سلسلے میں رابطہ کیا اسے مددگار پایا۔ دنیا میں لوگ صحافیوں کو بہت طاقتور اور بااثر سمجھتے ہیں۔ لیکن میں نہیں۔ یہ اس ملک میں صحافیوں کا حال ہے کہ دنیا بھر کے مظلوموں اور معصوموں کی خبریں تو اپنے اخبارات میں شائع کروا سکتے ہیں لیکن اپنے ویج بورڈ کے حق میں نہیں۔
اب کل پھر ایک مرتبہ احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ جس کو جو کرنا تھا کر دیا۔ ہم اسے نہیں روک سکے تو اب چیخنے چلانے سے فائدہ؟ حیات اللہ تو واپس نہیں آسکتا۔ حیات کا بھائی اکثر مشورے کے لیئے ٹیلیفون کرتا رہتا تھا۔ اس کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی تھی۔ جو اپنی بساط کے مطابق بہتر سمجھتے اسے بتا دیتے۔ لیکن ان کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی۔ آخری دنوں میں تو حکومت نے اس کے بھائی سے ملاقاتوں سے بھی معذرت کر لی تھی۔ اس کے بھائی کا حیات اللہ کی موت پر انٹرویو سن کر دعا کی کہ اب احسان کو اللہ اپنی امان میں رکھے۔ اس ملک میں ایک اور ایسا قتل ہوا ہے جس کا شاید کبھی بھی قاتل معلوم نہ ہوسکے۔ کیا پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان، کیا مرتضی بھٹو۔ کہتے ہیں اور شاید بالکل درست کہتے ہیں کہ اس ملک میں چڑیا مارنا مشکل اور انسان مارنا آسان ہے۔ یہ ایک ایسے دل کا بین ہے جو آج جانے کیوں پھٹ رہا ہے۔ یہ شاید غم ہے یا پھر بےبسی۔ اللہ اسے جوار رحمت میں جگہ دے۔ امین ہم اس کے لیئے کچھ نہیں کر سکے۔ یہ خلش دل میں ضرور ساری عمر رہے گی۔ | اسی بارے میں وزیرستان: فائرنگ سے صحافی زخمی14 May, 2005 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج31 May, 2006 | پاکستان اخبار نویسوں کا احتجاج کیمپ05 April, 2006 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان کراچی میں آزادی صحافت ریلی09 August, 2005 | پاکستان پاک وہند کےاخبارات اب سرحد پار سے بھی؟22 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||