پاک وہند کےاخبارات اب سرحد پار سے بھی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت سے آئے مدیران کے وفد کے سربراہ پردیپ گوہا نے پاکستان اور بھارت کے اخبارات کی اشاعت بڑھانے کا کلیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے کو برطانیہ کی طرزپر قومی اخبارت نکالنے کی بجائے امریکہ کی طرز پر مقامی اخبارات شائع کرنے ہونگے۔ وہ منگل کو لاہور میں جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی تنظیم ساؤتھ ایشن فری میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انڈین نیوز پیپرز سوسائٹی کے زیراہتمام بھارت کے مدیران کا ایک وفد ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔ کانفرنس میں پاکستان کے قومی اخبارات کے مدیر بھی موجود تھے۔ پردیپ گوہا زی ٹی وی کے اعلیٰ عہدیدار بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ لاہور سے ذرا بڑا ملک ہے، وہاں قومی اخبار نکالے جاسکتے ہیں اور وہ کامیاب بھی ہیں لیکن امریکہ ایک بڑا ملک ہے اور وہاں قومی اخبارات نہیں بلکہ مقامی اخبارات کامیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن ٹائمز اپنے اپنے شہروں کے اخبارات ہیں اور وہ دنیا کو اپنے شہر کے تناظر میں دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کے شہر آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں اور انہیں بھی مقامی اخبارات نکالنے کے رجحان کو طرف بڑھنا ہوگا تب ہی یہاں اخبارات کی اشاعت بڑھے گی۔ دی ہندو کے ایڈیٹر این مرلی کا خیال تھا کہ بھارت میں کثیرالجہتی اور متصادم نظریات کوذرائع ابلاغ میں زیادہ جگہ دی جاتی ہے جبکہ پاکستانی میڈیا میں ایسا رجحان بہت کم ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور سیفما کے عہدیدار امتیاز عالم کو اس سے اختلاف تھا وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی صحافت میں بھارت کے درست موقف کو درست اورپاکستان کے غلط موقف کو غلط قرار دینے والے موجود ہیں لیکن ان کے بقول بھارتی ذرائع ابلاغ نیشنل ازم کے حوالےسے ایک خط کھینچ دیتے ہیں اور پھر اس خط کو پار کرنا ان کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ پاکستانی صحافیوں نے اپنی آزادی کے ہر انچ کے لیے لڑائی کی، کوڑے کھائے اورجیلیں کاٹی ہیں لیکن کبھی جدوجہد ترک نہیں کی۔ اس کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ پر سے پابندی ختم ہونی چاہیے۔ انڈین نیوز پیپرز سوسائٹی کے نائب صدر گلاب کوٹھاری نے جو کہ ہندی اخبار’ راجھستان پتریکا‘ کے ایڈیٹر ہیں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اطلاعات کے تبادلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور دونوں ملکوں کے صحافیوں کو ویزے کی پابندی سے آزاد کر دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پاکستان اوربھارت کے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو ایک دوسرے کے ملک میں اپنے بیورو قائم کرنے اور مرضی کے مطابق جتنے بھی چاہیں نمائندے تعینات کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ دی ہندو سے ہی تعلق رکھنے والے مامن ماتھیوز نے کہا کہ خطے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے۔ پردیپ گوہا کا کہنا تھا کہ بدلتے حالات میں ذرائع ابلاغ کی بڑی اہمیت ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت میں پاکستان سے دوستی تعاون اور امن کے لیے اب بہت کھل کر بات کی جارہی ہے۔ پاکستانی پنجاب میں یونین آف جرنلسٹس کے صدر جلیل حسن اختر نے بھارتی مدیروں سے سوال کیا کہ آیا بھارت کے کارکن صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت اجرت دی جارہی ہے؟ بھارتی مدیروں کا جواب تھا کہ ہر پانچ سال بعد لاگو ہونے والا ویج بورڈ آخری بار کوئی سات سال پہلے آیا تھا اور بیشتر اخبارات نے لاگو بھی کر رکھا ہے لیکن بعض اخبارات کے مالی حالات اس کے نفاذ کی اجازت نہیں بھی دیتے اور کئی کارکنوں کو ویج بورڈ کے تحت تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مارکیٹ کا دباؤ بہت سے صحافیوں کو ویج بورڈ سے کہیں زیادہ معاوضہ بھی دلوا رہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر لاہور کے ضلعی ناظم بھی مذاکرے میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھاکہ لاہور کے اسّی لاکھ شہری امن کے متلاشی ہیں اور وہ بھارت سے امن و صلح کےلیے ہونے والی ہر پیش قدمی کا پرتپاک خیر مقدم کرتےہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||