BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 June, 2004, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی ضمیر نیازی انتقال کر گئے

ضمیر نیازی
ضمیر نیازی نامور مصنف اور صحافیوں کے حقوق کے علمبردار بھی تھے
مشہور صحافی اور دانشور ضمیر نیازی بہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
وہ پچھلے تین دن سے مسلسل بے ہوشی کی حالت میں تھے اور ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

ضمیر نیازی پاکستانی میڈیا کی تاریخ لکھنے والے پہلے صحافی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی صحافت کی تاریخ مرتب کی اور اس حوالے سے کئی کتابیں لکھی ۔ان کی مشہور کتابوں میں ’پریس ان چینز‘، ’پریس انڈر سیج‘ اور ’ویب آف سنسر شپ‘ شامل ہیں۔

یہ کتابیں پاکستانی صحافت میں دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ صحافت کے طالب علموں میں بھی بہت اھم سمجھی جاتی ہیں۔

جنرل ضیاہ الحق کے دور حکومت میں ان کی کتاب ’پریس ان چینز‘ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جب شام کے چھ اخبارات پر پابندی لگائی گئی تو ضمیر صاحب نے احتجاجاً صدر فاروق لغاری کی جانب سے دیا جانے والا ایوارڈ برائے حسن کارکردگی واپس کر دیا تھا۔

ضمیر نیازی انیس سو بتیس میں بھارت کے شہر ممبئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ممبئی سے نکلنے والے اخبار انقلاب سے کیا۔ انیس سو تریپن میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ پاکستان میں انہوں نے کراچی سے نکلنے والے شام کے اخبار ’نئی روشنی‘ سے آغاز کیا مگر جلد ہی پاکستان پریس انٹرنیشنل میں چلے گئے۔

ضمیر صاحب بعد میں ڈان اخبار سے منسلک ہو گئے۔ انیس سو نوے میں اخبار بزنس ریکارڈر سے انہوں نے اپنی عملی صحافتی زندگی کو خیر آباد کہا اور کتابیں لکھنے اور تحقیقی کاموں میں مصروف ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد