اخبار نویسوں کا احتجاج کیمپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپنڈی کے صحافیوں نے حکومت اور اخباری مالکان کے خلاف اجرتوں کے نئے سرے سے تعین کے متعلق ’ویج ایوارڈ، پر عمل نہ کرنے کے خلاف آج اسلام آباد میں ایک احتجاجی کیمپ لگایا۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت اور اخباری مالکان نے آپس میں گٹھ جوڑ کر کے صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافے کو گزشتہ پانچ سال سے منجمد کر رکھا ہے۔ قانون کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ برس کے لیے حکومت اعلیٰ عدالت کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیتی ہے جو تمام متعلقہ فریقین کا موقف سننے کے بعد مہنگائی اور دیگر عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اجرتوں کا تعین کرتا ہے۔ اس کمیشن نے صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود کمیشن کی سفارشات کے مطابق اجرتوں کے نئے ایوارڈ پر اخباری مالکان عمل نہیں کر رہے۔ گزشتہ اکتیس برسوں میں اب تک سات ویج ایوارڈ دیئے جا چکے ہیں۔ اخباری ملازمین کی تنظیمین گزشتہ چار برسوں سے احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں جبکہ فریقین عدالتوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف معاملہ لے جاچکے ہیں جن کا فیصلہ صحافیوں کے حق میں ہوا ہے لیکن تاحال صحافیوں کی تنخواہوں میں ویج ایوارڈ کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا۔ صحافی جب حکومت سے اس ویج ایوارڈ کے عدم نفاذ پر بات کرتے ہیں تو حکومتی وزیر یقین دہانی تو کرادیتے ہیں مگر اس بارے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔ احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ملازمین اور صحافیوں کی تنظیموں کے رہنماؤں، سی آر شمسی ا، پرویز شوکت، افضل بٹ اور فوزیہ شاہد نے اعلان کیا کہ اس طرح کے احتجاجی کیمپ دوبارہ بھی لگائے جائیں گے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||