حیات اللہ قتل کی تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان نے قبائلی صحافی حیات اللہ کی موت کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس بات کا اعلان کسی باضابطہ سرکاری اعلامیے میں نہیں بلکہ گورنر سرحد کی وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اطلاعات کے وزیر مملکت طارق عظیم کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کے بارے میں جاری کی گئی دو پیراگراف کی ایک خبر کے اختتامی کلمات میں بتائی گئی ہے۔ نوجوان صحافی حیات اللہ کی پُراسرار موت کی چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ تحقیقات کے اعلان کے سامنے نہ آنے پر صحافتی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اب تک صحافی کے لواحقین کے لیئے کسی معاوضے کا بھی اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد کی ملاقات سے متعلق اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کی مفصل تحقیقات کے لیئے ایک اعلی سطح کی انکوئری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ساتھ میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے سفارشات پیش کی جائیں۔ البتہ اس مبہم سے اعلان سے واضع نہیں کہ یہ تحقیقات کون اور کیسے کرے گا اور کس کے خلاف سفارشات دے گا؟ گورنر ہاؤس پشاور سے روزانہ یوں تو درجنوں ہینڈ آوٹس جاری کیئے جاتے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ کیوں تحقیقات کی خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی اور اس کا الگ بیان میں باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے قتل پر صحافیوں کا احتجاج17 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی16 June, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||