حیات اللہ کے قتل پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی حیات اللہ کےقتل کےخلاف سنیچر کے روز اسلام آباد اور پشاور میں صحافیوں نے مظاہرے کیے۔ دریں اثناء انہیں ان کے آبائی گاؤں ہرمز میر علی شمالی وزیرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ جنازے میں ان کے قبیلے اور دیگر مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تاہم اس موقع پر کوئی سرکاری اہلکار موجود نہیں تھا۔ اسلام آباد میں صحافیوں نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری کا بائیکاٹ کیا اور پارلیمان کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ صحافیوں کے بائیکاٹ کے بعد حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے بھی ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر قومی اسمبلی میں جاری بجٹ کی کارروائی کا علامتی واک آؤٹ کیا۔ صحافیوں نے ’قاتل قاتل حکومت قاتل‘ اور ’چیف جسٹس نوٹس لو‘ کے نعرے لگائے اور حیات اللہ کے قتل کی ذمہ داری حکومتی ایجنسیوں پر عائد کی۔ صحافیوں نے بازؤوں اور منہ پر سیاہ پٹیاں باند رکھی تھیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے علاوہ حکومتی اتحاد اور حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنما بھی موجود تھے۔ صحافیوں نے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا اس وقت تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت نے اعلان کیا کہ پیر انیس جون کو ملک بھر میں حیات اللہ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے یوم سیاہ منایا جائے گا۔ صحافیوں کے سینئر رہنما سی آر شمسی نے کہا کہ حیات اللہ کے بچوں کے ہمراہ اسلام آباد کے صحافیوں نے اقوام متحدہ ، اقتدار کے ایوانوں اور اعلیٰ عدالتوں کا چھ ماہ تک دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کسی کا سویا ہوا ضمیر نہیں جاگا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، متحدہ مجلس عمل، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور حیات اللہ کے قاتلوں کی گرفتاری تک صحافیوں کی جدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے حکومتی ایجنسیوں کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ شمالی وزیرستان میں خود حکومتی ایجنسیوں کے کئی اہلکار قتل ہوچکے ہیں اور حکومت کے حامی ایک سو سے زیادہ قبائلی عمائدین بھی مارے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی تحقیقات سمیت جو بھی صحافیوں کے مطالبات ہیں وہ ان کے وفد کو وزیراعظم سے ملاقات کراتے ہیں اور مل بیٹھ کر جیسا صحافی چاہیں گے حکومت ویسا ہی کرے گی۔ بعد میں صحافیوں نے پارلیمان سے سپریم کورٹ تک احتجاجی جلوس نکالا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے باہر حیات اللہ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے مطالبہ کیا۔ صحافیوں نے چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ از خود کارروائی کریں اور تحقیقاتی کمیشن بٹھائیں۔ پشاور میں صحافیوں نے حیات اللہ کے قتل کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ پشاور پریس کلب سے شروع ہوا اور گورنر ہاؤس کے سامنے جاکر ختم ہوا۔ مظایرین نے کتبے اور پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے جس پر درج تھا:’ قبائلی صحافی کے سرکاری قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے، صحافیوں کو تحفظ دیا جائے، آزادی صحافت کو بحال کیا جائے’ فاٹا کے اخباری نمائندوں کے خلاف تشدد بند کیاجائے’ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرے میں خیبر یونین آف جرنلسٹس، پشاور پریس کلب اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے نمائندوں کے علاوہ متحدہ مجلس عمل، پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز اور وکلاء تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ملک کی خفیہ ایجنسیوں پر حیات اللہ کو قتل کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحوم صحافی گزشتہ چھ ماہ سے لاپتہ تھے اور اس دوران ان کے فیملی اور صحافیوں کے نمائندوں نے کئی بار ان کی گمشدگی کو اعلی حکام کے نوٹس میں لایا لیکن افسوس کہ کسی نے بھی توجہ نہیں دی۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حیات اللہ کے قاتلوں کو بے نقاب کرکے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس موقع پر صحافیوں کے نمائندوں نے گورنر سرحد کے پریس سیکرٹری کو ایک یاداشت بھی پیش کی جس میں گورنر سے مرحوم صحافی کے قاتلوں کو فوری طورپر بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ واضع رہے کہ صحافی حیات اللہ کو گزشتہ دسمبر کے مہینے میں ان کے گھر کے نزدیک سے بعض نامعلوم نقاب پوشوں نے بندوق کے نوک پر اغواء کیا تھا۔ وہ چھ ماہ سے لاپتہ تھا جبکہ گزشتہ روز اس کی گولیوں سے چلنی لاش ملی تھی۔ اس کے بھائی احسان اللہ مسلسل خفیہ ایجنسیوں پر اسکے اغواء کا الزام لگاتا رہا ہے۔ مرحوم صحافی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حیات اللہ نے اس امریکی میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر بنائی تھی جس سے مبینہ طورپر القاعدہ کے ایک اہم آپریشنل کمانڈر ابو حمزہ ربیعہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مذکورہ القاعدہ رہنما کے بارے میں صدر پرویز مشرف نے بین الااقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بم بناتے ہوئے ہلاک ہوا ہے جبکہ حیات اللہ کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو جاری کی گئی تصویر میں اس بات کو شواہد سے ثابت کیا گیا تھا کہ القاعدہ رہنما امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہوا تھا۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے بھی آج بجٹ اجلاس کے آغاز پر معمول کی کارروائی روکتے ہوئے ایک متفقہ قرار داد منظور کی جس میں قبائلی صحافی حیات اللہ خان کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے صحافیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد حزب اختلاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے عبدالاکبر خان اور ایم ایم اے کی جانب سے مولانا فضل علی حقانی کے مشترکہ طور پر ایوان میں پیش کی۔ قرار داد میں وفاقی حکومت سے قبائلی علاقوں میں نو گو ایریاز کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ | اسی بارے میں پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ18 February, 2006 | پاکستان پشاور: ’صحافیوں کوتحفظ دیں‘20 December, 2005 | پاکستان بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان صحافی: بغیر وارنٹ گرفتاری جائز16 May, 2005 | پاکستان اسلام آباد: صحافیوں کا بائیکاٹ19 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||