حیات اللہ: سی پی جے کا اظہار غم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ سے دنیا بھر میں صحافیوں اور پریس آزادیوں کے تحفظ کیلیے کام کرنے والی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے نے پاکستان کی قبائلی علاقے سے گمشدہ صحافی حیات اللہ کےقتل پر اپنے گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔ گمشدہ پاکستانی صحافی کی لاش برآمد ہونے پر نیویارک سے جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے نے کہا ہے کہ پاکستان سے اغواء کیئے گئے صحافی حیات اللہ کے مردہ پائے جانے کی خبروں پر سی پی جے کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔ بین الاقوامی خبر رسان ایجینسیوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان میں لاش اس گاؤں ’میر علی‘ کے باشندوں کو ملی ہے جس سے حیات اللہ کو تقریباً چھ ماہ قبل پانچ دسمبر کو اغوا کیا گیا تھا۔ سی پی جے کے پریس ریلیز کے مطابق مقامی سرکاری حکام اور صحافی کےخاندان والوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حیات اللہ کے سر پر پیچھے سے گولی مارے جانے کا نشان تھا اور یہ گولی غالباً جمعرات کو ماری گئی تھی اور وہ ہتھکڑی میں تھے۔ حیات اللہ کمزور لگتے تھے اور ان کی داڑھی بھی اس دن سے بڑہی ہوئی لگتی تھی جس دن انہیں آخری بار دیکھا گیا تھا۔ پریس ریلیز کے آخر میں کہا گیا ہے کہ مقامی صحافیوں نے سی پی جے کو بتایا تھا کہ حیات اللہ نے علاقے میں القاعدہ کے ایک کمانڈر کی امریکی میزائيل حملے میں مارے جانے کی خبر دی تھی جو اس کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں پاکستانی حکومت کے موقف کی تردید کرتی تھی۔ یاد رہے کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان سے یہ کسی صحافی کے قتل کی دوسری خبـر ہے اس سے قبل گزشتہ ماہ کے آخر میں لاڑکانہ سے کے ٹی این کے کیمرہ مین اور فوٹوگرافر منیر سانگی کو قتل کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں صحافی: احتجاجی جلوس اور دھرنا21 March, 2006 | پاکستان کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج31 May, 2006 | پاکستان ’فوجی حکمران سے ایوارڈ نہیں‘28 May, 2006 | پاکستان پی ایف یو جے کا یومِ مطالبات03 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||