BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر

گورنر سرحد علی جان اورکزئی
صوبہ سرحد کے گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی
گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے قبائلی صحافی حیات اللہ کے قتل کی تین سطح پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس واقعے کی تہہ تک ضرور پہنچیں گے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے، گورنر نے بتایا کہ مرکزی حکومت عدالتی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے کرائے گی۔ اس کے علاوہ گورنر سیکرٹیریٹ نے گورنر کی انسپکشن ٹیم اور مقامی سطح پر محکمانہ انکوائری پولیٹکل انتظامیہ بھی کرے گی۔

انہوں نے اس اُمید کا اظہر کیا کہ ان تحقیقات کی رپورٹ دو ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔ ’ہماری کوشش ہوگی کہ اس کیس کی تہہ تک پہنچا جائے اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔‘

 صحافیوں سے ملاقات میں گورنر نے تسلیم کیا کہ اس وقت حکومت اس کیس میں ’پرائم ایکوزڈ‘ ہے۔ البتہ اسی کی تہہ تک پہنچنے کے لیئے تو یہ تحقیقات کرائی جا رہی ہیں

صحافیوں سے ملاقات میں انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت حکومت اس کیس میں ’پرائم ایکوزڈ’ ہے۔ البتہ اسی کی تہہ تک پہنچنے کے لیئے تو یہ تحقیقات کرائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کے ایک ساتھی کو کم از کم گورنر انسپکشن میں بطور مبصر شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ ’ہمیں آپ شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ میں آپ کی نمائندگی کروں گا آپ بے فکر رہیں۔‘

صحافی حیات اللہ کی نماز جنازہ سنیچر سترہ جون کو پڑھی گئی

صحافیوں کے قبائلی علاقوں میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں ایک جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پابندی نہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صحافی ان علاقوں میں ضرور جائیں کیونکہ وہ بڑی ’حقائق پر مبنی رپورٹنگ‘ کرتے ہیں۔

’آپ سے ہمیں بڑے اچھے آیڈیاز ملتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ وہ ان علاقوں میں جائیں اور ان کے مسائل کے بارے میں ہمیں بتائیں۔‘

وزیرستان کے مسئلے کے حل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت بات ہوگی کہ وہ کہیں کہ وہ حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

’تاہم ہم نے کڑی محنت شروع کر رکھی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیئے ہم بڑے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ہر پہلو کا بغور جائزہ لے رہے ہیں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پہلو رہ جائے۔‘

سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ وہ کامیاب ہونگے۔

وزیرستان کے مسئلے کے حل کے لیئے گرینڈ جرگے کی تشکیل میں تاخیر کے بارے میں گورنر کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی دو سو قبائلیوں کا ایک جرگہ علاقے میں بھیج سکتے ہیں لیکن اس کی کامیابی یقینی نہیں ہوگی۔ ’جرگے کے سلسلے میں زمین ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم تمام ملوث عناصر بات چیت کے لیئے راضی ہوجائیں۔‘

گورنر نے خبردار کیا کہ وہ بحثیت ایک قبائلی اگر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہوئے تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس بابت انہوں نے ذرائع ابلاغ سے تعاون کی اپیل کی۔

اس موقعہ پر گورنر نے وزیر اعظم کی جانب حیات اللہ کے لواحقین کے لیئے پانچ لاکھ روپے کی رقم کے علاوہ مزید پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا جو بقول ان کے انہیں پیر کے روز مل جائیں گے۔

میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
حیات اللہ کا قتل
پارلیمان کے سامنے صحافیوں کا احتجاج
اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد