’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے قبائلی صحافی حیات اللہ کے قتل کی تین سطح پر تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس واقعے کی تہہ تک ضرور پہنچیں گے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے، گورنر نے بتایا کہ مرکزی حکومت عدالتی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے کرائے گی۔ اس کے علاوہ گورنر سیکرٹیریٹ نے گورنر کی انسپکشن ٹیم اور مقامی سطح پر محکمانہ انکوائری پولیٹکل انتظامیہ بھی کرے گی۔ انہوں نے اس اُمید کا اظہر کیا کہ ان تحقیقات کی رپورٹ دو ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔ ’ہماری کوشش ہوگی کہ اس کیس کی تہہ تک پہنچا جائے اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔‘ صحافیوں سے ملاقات میں انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت حکومت اس کیس میں ’پرائم ایکوزڈ’ ہے۔ البتہ اسی کی تہہ تک پہنچنے کے لیئے تو یہ تحقیقات کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کے ایک ساتھی کو کم از کم گورنر انسپکشن میں بطور مبصر شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ ’ہمیں آپ شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ میں آپ کی نمائندگی کروں گا آپ بے فکر رہیں۔‘
صحافیوں کے قبائلی علاقوں میں داخلے پر پابندی کے سلسلے میں ایک جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پابندی نہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صحافی ان علاقوں میں ضرور جائیں کیونکہ وہ بڑی ’حقائق پر مبنی رپورٹنگ‘ کرتے ہیں۔ ’آپ سے ہمیں بڑے اچھے آیڈیاز ملتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ وہ ان علاقوں میں جائیں اور ان کے مسائل کے بارے میں ہمیں بتائیں۔‘ وزیرستان کے مسئلے کے حل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت بات ہوگی کہ وہ کہیں کہ وہ حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ’تاہم ہم نے کڑی محنت شروع کر رکھی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیئے ہم بڑے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ہر پہلو کا بغور جائزہ لے رہے ہیں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پہلو رہ جائے۔‘ سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ وہ کامیاب ہونگے۔ وزیرستان کے مسئلے کے حل کے لیئے گرینڈ جرگے کی تشکیل میں تاخیر کے بارے میں گورنر کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی دو سو قبائلیوں کا ایک جرگہ علاقے میں بھیج سکتے ہیں لیکن اس کی کامیابی یقینی نہیں ہوگی۔ ’جرگے کے سلسلے میں زمین ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم تمام ملوث عناصر بات چیت کے لیئے راضی ہوجائیں۔‘ گورنر نے خبردار کیا کہ وہ بحثیت ایک قبائلی اگر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں ناکام ہوئے تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس بابت انہوں نے ذرائع ابلاغ سے تعاون کی اپیل کی۔ اس موقعہ پر گورنر نے وزیر اعظم کی جانب حیات اللہ کے لواحقین کے لیئے پانچ لاکھ روپے کی رقم کے علاوہ مزید پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا جو بقول ان کے انہیں پیر کے روز مل جائیں گے۔ |
اسی بارے میں صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ قتل کی تحقیقات کا حکم17 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||