BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 June, 2006, 05:31 GMT 10:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: فوجی حملےمیں18 ہلاک

وزیرستان میں فوجی
وزیرستان میں فوج کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ہفتے کے روز ایک تازہ فوجی کارروائی میں اپنے اٹھارہ ساتھیوں کی ہلاکت جبکہ چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

فوجی حکام تاہم ہفتے کی الصبح اس کارروائی میں پندرہ سے بیس افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جوکہ بقول ان کے فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

ہلاک ہونے والوں کے اعدادوشمار میں فرق کے علاوہ فریقین میں اس حملے میں غیرملکیوں کے ہلاک ہونے پر بھی اختلاف دکھائی دیتا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں غیرملکی شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم مقامی طالبان اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے والے سب کہ سب مقامی قبائلی تھے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی صدر مقام میران شاہ سے تقریبا تیس کلومیٹر دور دتہ خیل کے علاقے میں دربلوکی نامی قصبے میں ایک مکان میں موجود شدت پسندوں کے خلاف کی گئی۔

صبح ساڑھے تین بجے شروع کی جانے والی یہ کارروائی تقریبا دو گھنٹے جاری رہی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مکان سے مشتبہ شدت پسند خطے میں فوجی قافلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے۔

مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ اس تازہ کارروائی میں چار گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیئے گئے۔ مقامی قبائل یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ یہ کارروائی سرحد پار کرکے آنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں نے کی البتہ اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس کارروائی کے دوران نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی کوئی لاش حکام کے ہاتھ لگی ہے۔

تحصیل دتہ خیل کے علاقے میں ماضی قریب میں سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت سامنے آئی جب حکومت ایک جرگے کے ذریعے اس مسلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بارے میں جب فوج کے ترجمان شوکت سلطان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی سیاسی طریقوں سے قزیے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ جاری رہیں گی۔

مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سرحد کے نئے گورنر سے کافی توقعات تھیں جوکہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل پر زور دے رہے تھے۔ البتہ اس تازہ کارروائی سے مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ انہیں دکھ پہنچا ہے۔

اس واقعے کے بعد کسی ردعمل کے بارے میں جب دریافت کیا تو ترجمان نے کہا کہ وہ پہلے سے جاری ہے۔

مقامی طالبان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کو بعد میں مختلف علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد