وزیرستان: چار ہلاک، کئی زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان میں دو مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک واقعے میں ایک کار بم دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔ یہ دھماکہ افغانستان کی سرحد کے قریب شمالی وزیرستان میں واقع ایک چیک پوسٹ پر ہوا۔ دھماکے میں کار میں سوار شخص بھی دھماکے میں مارا گیا۔ میران شاہ کے مغربی علاقے دتا خیل میں واقع سکیورٹی پوسٹ پر فائرنگ کے اس واقعے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کار سوار کو جب معمول کے سکیورٹی معائنے کے دوران رکنے کے لیے کہا گیا تواس نےگاڑی کی رفتار بڑھا کر سکیورٹی اہلکاروں پرفائرنگ شروع کر دی۔ کار سوار کی فائرنگ سے دو فوجی موقع پر ہی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے اور کار میں دھماکے سے سوار شخص بھی ہلاک ہو گیا۔ مقامی شدت پسند گروہ کے ایک ترجمان عبداللہ فرحاد کے مطابق دھماکہ خودکش حملہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز کی اپنی عورتوں کی تلاشی لینے پر غصہ میں ہیں اور اسی کے اظہار کے لیے انہوں نے ایسا کیا۔ فوج کے ترجمان میجر شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ ہو سکتا ہے اور وہ خودکش حملے کے امکان کی تردید نہیں کرتے‘۔ اس سے قبل انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک اہلکار کے مطابق دو نقاب پوش شدت پسندوں نے حکومت نواز قبائلی رہنما ملک تختی خان کو اس وقت گولیاں ماریں جب وہ میر علی میں سبزی اور پھلوں کے ایک ہفتہ وار بازار سےگزر رہے تھے۔ انیٹیلجنس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پچاس سالہ ملک تختی خان موقع پر دم توڑ گئے۔
شدت پسند اس سے پہلے بھی حکومت کی مدد کرنے کے شبے میں کئی حکومت نواز قبائلی سرادروں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ ملک تختی خان کو مارنے والے نقاب پوش اپنے دو دیگر ساتھوں کے ہمراہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ ملک تختی خان سرکاری حکام سے شمالی وزیرسان کے مرکزی شہر میران شاہ میں باقاعدگی سے ملتے تھے اور شدت پسندوں کو شک تھا کہ وہ ان ملاقاتوں میں حکومت کو ان کے بارے میں معلومات پہنچاتے ہیں۔ ادھر جنوبی وزیرستان میں دو فوجی ٹھکانوں پر کُل گیارہ راکٹ داغے گئے ہیں۔ ان میں سے پانچ راکٹ ایزر رائے کے فوجی ٹھکانے جبکہ چھ پالا پتھر کے مقام پر گرے۔ فوج نے جوابی کارروائی بھی کی تاہم ان دونوں واقعات میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ | اسی بارے میں میران شاہ میں تجارت متاثر09 March, 2006 | پاکستان میران شاہ باقی ملک سے کٹ گیا05 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: ہمارے نامہ نگار کی آپ بیتی06 March, 2006 | پاکستان میران شاہ پر جرگہ: حالات کشیدہ08 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں کرفیومیں نرمی12 March, 2006 | پاکستان ’میران شاہ: فوج پر حملے نہیں ہوں گے‘13 March, 2006 | پاکستان میران شاہ:ہلاکتوں کے دعوےاورحقیقت10 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: فوجی قلعے پر راکٹ حملہ18 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||