حکومتی حمایت یافتہ سردار کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان میں نقاب پوش حملہ آوروں نے ایک حکومتی حمایت یافتہ سردار کی گاڑی پر حملہ کر کے انہیں ہلاک اور ان کے دو ساتھیوں کو زخمی کر دیا۔ حکام کے مطابق مہر دل خان محسود نامی یہ سردار پیر کی شام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹانک سے وزیرستان کے علاقے شاعور جا رہے تھے کہ پانچ مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ سے مہر دل خان کا ڈرائیور اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہو گیا جنہیں جنڈولہ کے ہپستال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ مہر دل خان محسود وزیرستان میں جاری آپریشن کے حمایتی تھے اور حکام کے مطبق وہ اس سلسلے میں متعدد بار حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں بھی کر چکے تھے۔ وہ جنڈولہ کے مضافاتی علاقے شاعور کے ایجنسی کونسلر بھی تھے۔ حکام نے اس قتل کو’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک برس میں جنوبی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک اندازے کے مطابق ایک سو چونسٹھ افراد مارے جا چکے ہیں اور اب یہ سلسلہ شمالی وزیرستان میں بھی شروع ہو گیا ہے اور وہاں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران دو قبائلی سرداروں طوطی خان اور تختی خان کو گھات لگا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’تلاشی لی تو خودکش حملہ ہوگا‘29 May, 2006 | پاکستان تختی خان ہلاک، فوج پر راکٹ حملے28 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: چار ہلاک، کئی زخمی28 May, 2006 | پاکستان قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش21 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: دو ایف سی اہلکار ہلاک20 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||