’تلاشی لی تو خودکش حملہ ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹوں پر ان کی تلاشی کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ منگل کے روز کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سروس سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے کہا کہ مقامی قبائلی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے اب اپنی جان بھی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوکیوں پر ان کی عورتوں کی بھی تلاشی لی جاتی ہے اور بے عزتی کی جاتی ہے جو ان کے لیئے قابل قبول نہیں۔ مقامی طالبان کے مطابق اتوار کے روز دتہ خیل کے علاقے میں ایک شخص نے جس کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی، بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کی چوکی سے ٹکرا دی تھی۔ تاہم حکام کا موقف تھا کہ گاڑی نہ روکنے پر سپاہیوں نے فائرنگ کی جس سے گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مقامی طالبان نے جاری مزاحمت کے دوران گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا ہے۔ اس واقعے میں حملہ آور کے علاوہ ایک خاصہ دار سپاہی اور نیم فوجی ملیشیا کا ایک جوان بھی ہلاک ہوئے تھے۔ جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائلی جنگجوں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بھی گزشتہ برس چوکیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: 3 سو شدت پسند ہلاک 29 April, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان: چار ’طالبان‘ ہلاک08 May, 2006 | پاکستان وزیرستان میں راکٹ باری اور قتل14 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: خاموشی ہی بہتر ہے15 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی سمیت گیارہ ہلاک16 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان، ایک فوجی ہلاک17 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: دو ایف سی اہلکار ہلاک20 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: چار افراد ہلاک، کئی زخمی28 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||