BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تلاشی لی تو خودکش حملہ ہوگا‘

 تلاشی
وزیرستان میں طالبان نےپہلی مرتبہ کار خودکش حملہ کیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹوں پر ان کی تلاشی کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ خودکش حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

منگل کے روز کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سروس سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے کہا کہ مقامی قبائلی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے اب اپنی جان بھی دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چوکیوں پر ان کی عورتوں کی بھی تلاشی لی جاتی ہے اور بے عزتی کی جاتی ہے جو ان کے لیئے قابل قبول نہیں۔

مقامی طالبان کے مطابق اتوار کے روز دتہ خیل کے علاقے میں ایک شخص نے جس کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی، بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کی چوکی سے ٹکرا دی تھی۔ تاہم حکام کا موقف تھا کہ گاڑی نہ روکنے پر سپاہیوں نے فائرنگ کی جس سے گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مقامی طالبان نے جاری مزاحمت کے دوران گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا ہے۔ اس واقعے میں حملہ آور کے علاوہ ایک خاصہ دار سپاہی اور نیم فوجی ملیشیا کا ایک جوان بھی ہلاک ہوئے تھے۔

جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائلی جنگجوں کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بھی گزشتہ برس چوکیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سے ان کا کہنا ہے کہ ان چوکیوں کی وجہ سے انہیں نقل و حرکت میں دقت پیش آتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد