BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 May, 2006, 11:16 GMT 16:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: خاموشی ہی بہتر ہے

ملک لعل محمد
وزیرستان کے پڑھے لکھے اور روشن خیال لوگوں کو یا تو ختم کر دیا گیا ہے یا انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے
موسم گرما کی ایک معمول کی صبح تھی۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مرکزی بازار میں روزانہ کی چہل پہل تھی۔ احمدزئی وزیر قبیلے کی ایک اہم شاخ اشرف خیل کے سربراہ ملک لعل محمد بھی کسی کام سے بازار پہنچے۔

اچانک سیاہ شیشوں والی ایک سفید کرولا گاڑی قریب سے گزری اور اس میں سوار نامعلوم افراد نے گولی چلا دی۔ بیالیس سالہ ملک لعل محمد وزیر موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

چودہ جولائی دو ہزار چار کو اس علاقے میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا اور نہ کسی ذاتی یا قبائلی دشمنی کا نتیجہ۔ یہ ’ٹارگٹ کلنگ’ تھی۔ کچھ برس پہلے تک اس انگریزی اصطلاح کا معانی شاید ہی کسی قبائلی کو معلوم تھا، لیکن اب یہ دو لفظ قبائلی علاقوں میں عام فہم ہیں۔

’ٹارگٹ کلنگ‘ کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ ٹھیک ایک برس بعد بائیس جولائی دو ہزار پانچ کو وانا کے مضافات میں نامعلوم افراد نے گولی چلا کر احمدزئی وزیر قبیلے کے سربراہ مرزا عالم خان، اُن کے بھائی فیروز خان اور بیٹے سمیت سات افراد کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے اور آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ لوگ کون تھے۔

سرکاری شمار کے مطابق اب تک وزیرستان میں ڈیڑھ سو کے قریب اہم قبائلی شخصیات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان کا قصور کیا تھا کچھ واضح نہیں۔ تاہم ذرائع ابلاغ میں انہیں حکومت نواز کہہ کر پیش کیا گیا جس کا مطلب تھا کہ وہ حکومت کے قریب تھے اس لیئے ان کو اس دنیا سے رخصت کر دیا گیا۔

پڑھے لکھے طبقے کی بڑی تعداد وزیرستان سے ہجرت کر گئی ہے

وزیرستان میں گزشتہ چار برسوں سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران جہاں بڑی تعداد میں فوجی اور مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں وہیں ایک بڑی تعداد میں ان اہم قبائلی شخصیات اور علماء کی بھی ہے۔ امریکہ کے لیئے جاسوسی کے الزام میں گلے کاٹ کر ہلاکتیں اس سلسلے کی ایک الگ کڑی رہیں۔

آغاز میں تو حکومت کافی عرصے تک اہم قبائلی شخصیات کے قتل کو قبائلی دشمنی کا نتیجہ قرار دے کر نظر انذاز کرتی رہی، لیکن جب صورتحال کافی سنگین رخ اختیار کر گئی تو حکومت نے بھی ریت سے سر نکال کر ان کی تعداد کی تصدیق کرنا شروع کر دی۔

اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔ سابق وفاقی وزیر اور سینٹر فرید اللہ خان جیسی شخصیات بھی نامعلوم حملہ آوروں کا نشانہ بن چکی تھیں۔

ان سب کے بارے میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے۔ یہ سب پڑھے لکھے اعتدال پسند لوگ مانے جاتے تھے۔ وہ پسماندہ وزیرستان کا پڑھا لکھا طبقہ تھا۔ وہ وزیرستان کی بااثر آواز تھی۔ تاہم ایک ایک کر کے وہ چلے گئے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔

جو پڑھے لکھے قبائلی بچ گئے ہیں انہوں نے یا تو الگ تھلگ ہوکر چپ سادھ لی ہے یا پھر اپنا گھر بار چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان جیسے شہروں میں منتقل ہوگئے۔ اس وقت سے وانا ایک ویرانے سے بڑھ کر شاید کچھ نہیں۔

حکومت نے بلآخر کافی تاخیر کے بعد ان حکومت کے حامی قبائلی ملکوں کے لواحقین میں ان کی خدمات کے صلے میں پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم تقسیم کی ہے۔ البتہ ملک لعل محمد کے بڑے بیٹے ملک نور رحمان جیسے لوگ اس اقدام پر حکومت کے شکر گزار ضرور ہیں پر مطمئن نہیں۔

ستائیس سالہ نوجوان ملک نور رحمان کا کہنا ہے ’ماضی میں انگریز ایسے مواقع پر اپنے وفادار قبائلیوں کی خدمات کا سرعام اعتراف کرتے تھے۔ ان کے لواحقین میں بڑی بڑی اراضی تقسیم کرتے تھے، ان کے بیٹوں کو قوانین میں نرمی کرکے ملازمتیں دیتے تھے۔ یہ اقدامات حکومت کے دیگر حامی افراد کو وفادار رہنے پر مجبور کرتے تھے۔ لیکن اب نہیں۔ ہمارے والد جیسی شخصیات کو کوئی سرکاری ایوارڈ دیا جانا چاہیے جنہوں نے اس ملک کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔‘

تقریباً اسی قسم کے خیالات کا اظہار کمپوٹر گریجویٹ تاہم بے روزگار ملک فیروز خان کے بیٹے نظام خان وزیر بھی کرتے ہیں۔ احمدزئی وزیر قبیلے کے سربراہ مرزا عالم خان ان کے چچا تھے۔ چچا کے علاوہ ان کے والد بھی ان چھ دیگر افراد میں شامل تھے جو نامعلوم افراد کے حملے میں ہلاک ہوئے۔

نظام کے والد ملک فیروز خان بین الاقوامی ادارے یو این ایچ سی آر میں بھی اہم عہدے پر فائز رہے ہیں جبکہ ملک لعل محمد کے بارے میں پولیٹکل انتظامیہ نے تحریری طور پر اعتراف کیا وہ ایک قابل بھروسہ، مثبت سوچ اور آنے والے وقت کا ادراک رکھنے والی شخصیت ہیں۔

 انگریزوں نے ایف سی آر کا قانون نافذ کرکے بڑی غلطی کی اور اب موجودہ حکمراں بھی اسی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نظام خان

چوبیس سالہ نظام خان موجودہ خراب حالات کی وجہ حکومت کی غلط پالیسیاں کو قرار دیتے ہیں۔ ’بین الاقوامی اور قومی سطح پر ہماری پالیسیاں دوغلی ہیں۔‘

نظام کا کہنا ہے کہ انگریزوں نے ایف سی آر کا قانون نافذ کرکے بڑی غلطی کی اور اب موجودہ حکمراں بھی اسی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان نے انہیں قبول ہی نہیں کیا۔ ’ہمارے لیئے تمام قانون الگ ہیں۔ ہم اگر کوئی جانور یا ٹرک قبائلی علاقے لے کر جاتے ہیں تو دوگنا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔‘

یہ خیالات وزیرستان کی نئی پڑھی لکھی نسل کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سرکاری عدم دلچسپی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وزیرستان کا پڑھا لکھا اور مخلص طبقہ بد دل اور نااُمید ہے۔ اس نے چپ میں بہتری سمجھی سو سادگی سے سادھ لی ہے۔ ’بس چپ ہی بہتر ہے۔ سب نے چپ سادھ لی ہے۔ کوئی نہیں بولتا اسی میں بہتری ہے۔’ تیس سالہ نور رحمان نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اشارے سے بتایا۔

ان ہلاکتوں پر شور مچانے والے کو خطرہ ہے کہ ان کے پیچھے کارفرما عناصر اور حکومت دونوں کے غصے کا نشانہ نہ بن جائیں۔

نور رحمان ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر کے آج کل وانا سے باہر ایک موبائل فون کمپنی میں ملازمت پر مجبور ہیں۔ والد کے قتل کا ان کی نفسیات پر بظاہر بہت اثر پڑا ہے۔ ’میں اپنے والد کا آخری دیدار کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کی کوئی ایسی تکلیف دہ تصویر تمام عمر کے لیئے میرے ذہن میں محفوظ ہوجائے۔ اب تو میری آدھی تنخواہ صرف ادویات خریدنے پر صرف ہوجاتی ہے۔

نور رحمان کا کہنا تھا کہ ان کے والد ہمیشہ وزیرستان کو ایک باغ قرار دے کر اسے بچانے اور نکھارنے کی بات کرتے تھے۔ ’وہ سرکاری اہلکاروں سے ملاقاتوں میں ہر جرگے میں اس علاقے کے جنگلات اور جنگلی حیات جیسے وسائل کو محفوظ کرنے، ترقی دینے، عورتوں کی ترقی اور ٹرانزٹ ٹریڈ کا موضوع ضرور اٹھاتے تھے۔ ان کا ایک ویژن تھا جو ادھورا رہ گیا۔’

یہ ہلاکتیں وزیرستان کے لیئے ایک بڑا نقصان تصور کی جا رہی ہیں۔ نور رحمان نے کہا کہ’وہ تو ہمارے سر کا سایہ تھے۔ میں تو ان کے کافی قریب رہا ہوں۔ ایسے جیسے ان کا بھائی یا ان کا پرسنل سیکٹری ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ والد کی ہلاکت کے بعد ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ وہ اب فلاحی کام چھوڑ دیں کیونکہ ان کی وجہ سے ہی انہیں یہ نقصان اٹھانا پڑا۔

دیر آئد درست آئد کے مصداق حکومت نے دو سال بعد ان افراد کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کچھ معاوضہ تو ادا کر دیا تاہم لوگے کہتے ہیں کہ بات صرف چند پیسوں کی نہیں۔ یہ پانچ لاکھ روپے مارے جانے والوں کا کبھی بھی متبادل یا ان کی قیمت نہیں ہوسکتے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان اہم شخصیات کی ہلاکتیں اس علاقے کے پرامن مستقبل کے لیئے کوئی اچھا شگون نہیں۔

بزرگ کا سایہ صرف نور رحمان یا نظام خان کے سروں سے نہیں بلکہ تمام وزیرستان کے سر سے گیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہاں حالات ہیں کہ سُدھرنے کو ہی نہیں آتے۔ انتہا پسندی کا جن وہاں سے نکل کر اب دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔

ملک مرزا عالم خان، ملک لعل محمد اور ملک فیروز خان جیسے لوگ، ان کے بچوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرکے صنعتی ترقی، بے روزگاروں کو ملازمتیں اور تعلیم عام کروانے کی کوشش کر رہے تھے جس سے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ بقول نور رحمان خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
وانا میں چار ہلاک تین زخمی
10 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد