BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 March, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: بم سےفوجی گاڑی تباہ

وانا
مقامی انتظامیہ نے میران شاہ بنوں سڑک بند کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے دو فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر مقامی مزاحمت کاروں یا طالبان نے سنیچر کو صدر مقام میران شاہ اور کئی دیگر مقامات پر سرکاری و فوجی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق بم دھماکہ پیر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے میران شاہ سے بنوں جانے والی شاہراہ پر مبارک شاہی کے مقام پر ہوا۔

حکام کے مطابق تقریبا بیس گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلہ میرعلی سے رزمک جا رہا تھا کہ سڑک کنارے نصب بم پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی گاڑی تباہ جبکہ دو فوجی زخمی ہو گئے۔

آخری اطلاعات تک مقامی انتظامیہ نے میران شاہ بنوں سڑک بند کر کے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

ادھر، بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے پیر کو ٹیلفون پر اپنا بیان دیتے ہوئے قبائلی مزاحمت کاروں کے ترجمان طارق جمیل نے اتوار کو جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بم دھماکے میں سات ہلاکتوں کے بارے میں کہا کہ یہ ’ان کے ان مسلمان بھائیوں کی کارروائی تھی جن کے دل وزیرستان میں ہونے والے ظلم پر دکھتے ہیں‘۔

ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے نام پر جاری فوجی کارروائیاں نہ روکی گئیں تو یہ دھماکے پشاور سمیت دیگر شہروں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ ’ایسے بھائی ہر شہر میں ہیں جن کے دل ہم پر دکھتے ہیں‘۔

انہوں نے دعوی کیا کہ وہ ایک طویل عرصے تک علاقے میں مزاحمت جاری رکھنے کی طاقت اور وسائل رکھتے ہیں۔ ’ہمارے پاس افغانستان میں جہاد کے وقت سے کافی اسلحہ موجود ہے‘۔

ترجمان کا دعویٰ
 طویل عرصے تک علاقے میں مزاحمت جاری رکھنے کی طاقت اور وسائل رکھتے ہیں۔ ’ہمارے پاس افغانستان میں جہاد کے وقت سے کافی اسلحہ موجود ہے‘

طارق جمیل نے کہا کہ وہ حکومت کو وزیرستان میں قبائلیوں کا خون بہانے کے بدلے امریکیوں سے ڈالر نہیں لینے دیں گے۔

ترجمان نے اپنا موقف دوہرایا کہ وزیرستان میں کوئی غیرملکی موجود نہیں۔ انہوں نے پاکستانیوں سے بھی دوبارہ اپیل کی کہ وہ حکومت پر وزیرستان آپریشن رکوانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے اتوار کی شب صدر مقام وانا میں سرکاری ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے اینٹینا کو بم سے نقصان پنچایا ہے جس سے نشریات بند ہوگئیں ہیں۔

یہ ریڈیو سٹیشن پر اپنی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل سن دو ہزار چار کے آغاز کے چند روز بعد ہی نامعلوم افراد نے اسی طرح بم نصب کر کے اس کی نشریات بند کر دی تھیں۔

پشاور میں قبائلی علاقوں کے اہلکاروں کے مطابق بم سے نقصان اتنا زیادہ نہیں ہوا ہے تاہم اس سے ریڈیو کی نشریات بند ہوگئی ہیں۔ اس کی مرمت میں حکام کے مطابق تین سے چار روز لگ سکتے ہیں۔ اس سٹیشن کی نشریات بیس کلومیٹر کے علاقے میں سنی جاسکتی ہیں۔

اس بم حملے میں وانا ریڈیو کی عمارت محفوظ رہی۔ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد صرف اس کے ایریل ٹرانسمٹنگ یونٹ کے قریب نصب کیا تھا۔

ریڈیو پاکستان وانا سٹیشن سے روزانہ ساڑھے چھ گھنٹے کی نشریات کرتا تھا جو تمام مقامی وزیرستانی لہجے والی پشتو میں ہوتی تھیں۔ اس کے ذریعے اسلامی پروگراموں کے علاوہ خبریں اور موسیقی بھی سنائی جاتی تھی۔

اس ریڈیو سٹیشن کے قیام سے پہلے تک جنوبی وزیرستان میں نہ تو سرکاری ریڈیو اور نہ ہی ٹی وی باآسانی سنا اور دیکھا جا سکتا تھا۔ حکومت نے متشبہ القاعدہ اور طالبان کے اراکین کے خلاف کارروائی میں اپنا موقف قبائلیوں تک پہنچانے میں کمزوری دیکھتے ہوئے یہ ریڈیو سٹیشن قائم کیے تھے۔

ایف ایم ریڈیوایف ایم اور زلزلہ
زلزلہ متاثرین کے لیے ایف ایم سٹیشنز
ایف ایمباڑہ میں نیا فساد
ایف ایم ٹیکنالوجی کا فرقہ ورانہ استعمال
اسی بارے میں
وانا میں قبائلی سردار ہلاک
22 February, 2006 | پاکستان
وانا سے چار فوجی جوان اغواء
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد