وانا میں قبائلی سردار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صدر مقام وانا میں بدھ کی دوپہر نامعلوم مسلح افراد نے ایک اور قبائلی سردار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی کے اڑتالیس سالہ ملک ارسلا خان خونی خیل قبیلے کے بڑے سردار تھے۔ وہ آج (یعنی بدھ 22 مارچ) اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ ایک گاڑی میں وانا بازار سے گزر رہے تھے کہ نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد نے گھات لگا کر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں ملک ارسلا موقعہ پر ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس ہلاکت کی وجہ ابھی واضع نہیں ہوئی ہے لیکن کسی نے اس کی ذمہ داری ابھی قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ملک ارسلا کو القاعدہ اور طالبان سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے حامی مانے جاتے تھے۔ خیال ہے کہ اس سے قبل بھی وزیرستان میں ایک سو سے زائد سرکردہ قبائلی سرداروں یا ان کے رشتہ داروں کو حکومت نواز ہونے کی وجہ سے ہلاک کیا جا چکا ہے۔ تاہم حکومت ان سب ہلاکتوں کو ’ٹارگٹ کلنگ’ قرار نہیں دیتی۔ حکومت کا کہنا کہ یہ قبائلی دشمنیوں کا شاخسانہ بھی ہوسکتی ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||