BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 17:20 GMT 22:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان: چار ’طالبان‘ ہلاک

فائل فوٹو
باجوڑ میں امریکیوں نے پہلے بھی حملہ کیا تھا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پیر کی سہ پہر امریکی بمباری سے تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے پیر کی سہہ پہر افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع پاکستانی علاقے انگور اڈہ میں یہ کارروائی کی۔

مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ بمباری کا نشانہ ایک پہاڑ پر کرومائیٹ کی کانکنی میں مصروف مزدور بنے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیئے انگور اڈے لایا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے علاقے میں بمباری کی تردید کی۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ نہ تو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے علاقے میں کوئی واقعہ پیش بھی آیا ہے تو وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

پاکستان فوج کے ترجمان مطابق شام سات بجے تین زخمی افراد انگور اڈہ میں پاکستانی چیک پوسٹ پر آئےجن کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کا علاج بھی کیا جا رہا ہے اور ان سے تحقیق بھی ہو رہی ہے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے سرحدی علاقوں میں اسلحہ لے جانے والے ایک ٹرک کو نشانہ بنایا جس میں چار مشتبہ طالبان ہلاک کردیئےگئے۔ ترجمان نے کہا کہ اس پوری کارروائی کے دوران پاکستانی فوج سے رابطہ رکھا گیا تھا۔

بہت سی جگہوں پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی لائن واضع نہیں ہے کیونکہ اس علاقے میں دشوار گزار پہاڑیاں اور درے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان نے تردید کی کہ امریکی ہیلی کاپٹروں سے فائر ہونے والا کوئی میزائیل پاکستان کی حدود میں جا گرا تھا۔ ترجمان کرنل پال فٹز پیٹرک کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ حملہ افغانستان کی حدود میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں دونوں ممالک کی سرحدوں کا علم ہے‘۔

اس سے قبل شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں سرحد پار سے اس طرح کے امریکی حملوں پر حکومت پاکستان نے امریکہ سے کئی مرتبہ احتجاج بھی کیا تھا۔

باجوڑ کے ڈمہ ڈولہ گاؤں میں اس سال جنوری میں تین مکانات پر امریکی بمباری سے اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم یہ تازہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب ایک اعلی امریکی اہلکار نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان نے اس بیان پر کافی برہمی کا اظہار بھی کیا تھا۔

قبائلیباجوڑ پر حملہ
امریکہ مخالف جذبات بھڑکے ہیں:ہارون
اسی بارے میں
باجوڑ حملے کے خلاف مظاہرہ
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد