’غیرملکی مرنے کا ثبوت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ باجوڑ میں کسی خاص شخص کی موجودگی کا کوئی قابل ذکر ثبوت نہیں ملا۔ اقوام متحدہ میں پریس کانفرنس کے دوران شوکت عزیز نے کہا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں علاقے کی اچھی طرح چھان بین کر رہی ہیں لیکن ابھی تک انہیں یہ یقین نہیں کہ باجوڑ میں حملے کے وقت کسی خاص گروہ سے تعلق رکھنے والے موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستانی حکومت باجوڑ پر حملے کی مذمت کرتی ہے اور وہ اس معاملے پر امریکی صدر سے بھی بات کریں گے۔ لیکن انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہے کیونکہ پاکستان دہشت گردی پر یقین نہیں رکھتا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ایران پر تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی لیکن پاکستان کا اس بارے میں موقف بہت واضح ہے۔ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ہے، جوہری توانائی کے نہیں۔ شوکت عزیز نے کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کر سکے ایران کو بھی یہ حق ہے۔ شرط یہ ہے کہ یہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے تحت کیا جائے۔ تاکہ دنیا کو یہ اطمینان رہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے‘۔
اسی سلسلے میں ان سے یہ سوال بھی ہوا کہ اگر ایران پر اقوام متحدہ یا امریکہ کی طرف سے پابندی لگائی جاتی ہے تو کیا پاکستان پھر بھی ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر کام کرے گا؟ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان ایسا وقت آنے پر اپنے ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت سے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے، اسی لیے اس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی ہیں، لیکن مزید پیش رفت درکار ہے۔ ’ بھارت اور پاکستان کو باہمی اعتماد بڑھانے کے اقدامات سے آگے بڑھ کر اب تنازعات ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ اور اس کے لیے مسئلہ کشمیر پر بات چیت ضروری ہے‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جوں جوں مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہوگی، دیگر معاملات جیسے دونوں ممالک کے درمیان تجارت وغیرہ میں بھی بہتری آئے گی۔ پاکستان میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ اور خصوصاً سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کے لیےکہ زلزلے کے لیے جمع کی گئی امدادی رقم صحیح جگہ خرچ ہو، حکومت نے تین اہم اقدامات کیے ہیں۔ ایک تو اس رقم کے حساب کے لیے باہر کے آڈیٹر لگائے گئے ہیں، دوسرا خرچے پر نظر رکھنے کے لیے ایک سپروائزری بورڈ بنایا گیا ہے، اور پھر یہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی تمام معاملے پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کتنی رقم جمع ہوئی ہے اور کہاں خرچ ہوئی ہے اس کی تفصیل ویب سائٹ پر بھی مہیا کی جائے گی جہاں لوگ اسے دیکھ سکیں گے۔ امریکی صدر بش نے پانچ بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی یہ ذمہ داری لگائی تھی کہ وہ پاکستان میں زلزلے سے متاثر افراد کی امداد کے لیے امریکی کاروباری اداروں کی مدد سے ایک سو ملین ڈالر کی امدادی رقم جمع کریں۔ ان میں سٹی گروپ، جنرل الیکٹرک، فائزر، زیروکس اور یو پی ایس کے سی ای اوز شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ لوگ ستر ملین ڈالر جمع کر چکے ہیں اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ مزید تیس ملین بھی جلد ہی جمع ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے دورے کے بعد جے پی مورگن اور کچھ آئی ٹی کمپنیوں کے سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ :القاعدہ ممبران کی شناخت 18 January, 2006 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ : خالی قبروں کا معمہ19 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: ملک گیر احتجاج کی کال14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ کے حالات کا آنکھوں دیکھا حال14 January, 2006 | پاکستان حملے سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکے15 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||