بچوں پر دہشت گردی کے الزامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار سال قبل وزیرستان میں دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار ہونے والے تین غیر ملکی بچوں نے رہائی کے بعد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر الزامات عائد کیے ہیں کہ انہیں حراست کے دوران بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سنٹرل جیل پشاور سے چار دن پہلے رہا ہونے والوں میں افغانستان اور مصر کے تین بچے شامل ہیں جن کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔ انہوں نے منگل کو پشاور میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ وہ قران کریم حفظ کرنے وزیرستان آئے تھے لیکن انہیں بلا وجہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کرکے چار سال تک بغیر کسی الزام کے زیر حراست رکھا گیا۔ اس موقع پر کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی اور ورلڈ پرزنرز کمیشن کے چیئرمین جاوید ابراہیم پراچہ بھی موجود تھے جنہوں نے ان بچوں کی رہائی میں معاونت کی ہے۔ رہا ہونے والے بچوں خالد اور اسحاق جن کا تعلق افغانستان کے شمالی صوبوں سے ہیں اور 15 سالہ مصری عبدالرحم نے بتایا کہ خفیہ اداروں کے اہلکار انہیں حراست کے دوران الٹا لٹکاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ ان کے ماں باپ اب کہاں ہیں کیونکہ گرفتاری کے بعد ان کا والدین اور خاندان کے دیگر افراد سے رابط کٹ گیا تھا۔ بچوں نے بتایا کہ وہ پاکستان علم کے حصول کے لیئے آئے تھے اور ابھی بھی ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ یہاں سے دینی علم حاصل کرکے اپنے ملکوں کو جائیں۔ اس موقع پر جاوید ابراہیم پراچہ نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے انہیں ان تین بچوں کو حوالے کیاگیا ہے اور جب تک ان کے ماں باپ اور رشتہ داروں کا پتہ نہیں چلتا وہ ان کے پاس رہیں گے۔ پراچہ نے بتایا کہ ان کی کوششوں سے اب تک 1500 غیر ملکی قیدی، جن پر دہشت گردی اور القاعدہ سے تعلق کا الزام تھا، ملک کی مختلف جیلوں سے رہا کیے گئے ہیں اور سینکڑوں ابھی بھی پابند سلاسل ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان: 3 سو شدت پسند ہلاک 29 April, 2006 | پاکستان جنوبی وزیرستان: چار ’طالبان‘ ہلاک08 May, 2006 | پاکستان وزیرستان میں راکٹ باری اور قتل14 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: خاموشی ہی بہتر ہے15 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: فوجی سمیت گیارہ ہلاک16 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان، ایک فوجی ہلاک17 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: دو ایف سی اہلکار ہلاک20 May, 2006 | پاکستان وزیرستان: چار ہلاک، کئی زخمی28 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||