’طالبان اب ایک بڑا خطرہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک سینیئر فوجی افسر کا کہنا ہے افغانستان میں طالبان کا مسئلہ مقامی فوجی حکمتِ عملی کا معاملہ ہے اور اب طالبان افغانستان کے لیئے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔ پاکستان کی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل احسان الحق نے سنگاپور میں ایشیا کی سکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس میں کہا کہ طالبان اب افغان حکومت کو متزلزل نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے لیکن اس کی وجہ سست رو ملکی تعمیرِ نو کے خلاف عوامی جذبات اور غیر ملکی فوجیوں کے خلاف افغان عوام کے دلوں میں موجود نفرت ہے۔ جنرل احسان نے یہ بھی کہا کہ حالیہ تشدد افغانستان کے جنوب میں واقع طالبان اکثریت کے علاقے میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا قدرتی ردعمل بھی ہے۔
پاکستانی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ نے افغان حکومت کی ان شکایات کو بھی رد کر دیا کہ پاکستان طالبان جنگجؤوں کی دراندازی روکنے کے لیئے سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’پاکستان کو خود اپنے ملک میں اسلامی شدت پسندی کا سامنا ہے اور وہ کس طرح افغانستان میں اس قسم کی شدت پسندی کی حمایت کر سکتا ہے‘۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج ماضی میں طالبان کی حمایت کرتی رہی ہے اور مغربی حکام کا ماننا ہے کہ جہاں پاکستانی حکومت طالبان کو شکست دینے کے تئیں سنجیدہ ہے وہیں فوج اور خفیہ اداروں کے کچھ افسران کی ہمدردیاں اب بھی طالبان کے ساتھ ہیں۔ | اسی بارے میں ’کرزئی اندرونی خلفشار ختم کریں‘22 May, 2006 | پاکستان الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان19 May, 2006 | پاکستان طلباء کو اکسایا جاتا ہے: کرزئی18 May, 2006 | پاکستان ’قتل میں آئی ایس آئی ملوث نہیں‘14 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||