BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کرزئی اندرونی خلفشار ختم کریں‘

دفترِ خارجہ
دفترِ خارجہ اس سے قبل بھی افغان صدر کے الزامات کا جواب دے چکا ہے
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت اپنے ملک میں بدامنی روکنے میں ناکامی پر مایوس ہوکر پاکستان پر طالبان کی مدد اور دراندازی کے الزامات لگا رہی ہے۔

پیر کے روز بریفنگ میں انہوں نے حال ہی میں اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے کے بارے میں اپنا تفصیلی پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے افغاسنتان میں مداخلت، طالبان کی مدد اور دراندازی کے بارے میں تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔

انہوں نے افغانستان میں بدامنی کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے صدر حامد کرزئی کی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ حالات کا سیاسی طور پر حل نکالیں اور الزامات لگانے کے بجائے اپنے ملک میں خلفشار پر قابو پائیں۔

افغانستان کے الزامات
افغانستان کی سرحد پر پاکستان نے اپنے اسی ہزار فوجی تعینات کیے ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف کسی بھی ملک سے زیادہ کارروائیاں اور اقدامات پاکستان نے کیئے ہیں۔
دفترِ خارجہ

جب ان سے پوچھا گیا کہ افغانستان حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات لگانے کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ صدر کرزئی کی حکومت اپنے ملک میں خراب حالات پر قابو نہ پانے سے مایوس ہوکر ایسا کر رہی ہے۔

انہوں نے پہلے سے تیار کردہ تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرحد پر پاکستان نے اپنے اسی ہزار فوجی تعینات کیے ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف کسی بھی ملک سے زیادہ کارروائیاں اور اقدامات پاکستان نے کیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کا نقصان پاکستان کو ہوتا ہے اور ماضی میں چالیس لاکھ افغان پناہ گزیں پاکستان آئے جو کہ پاکستان کی معیشت پر بہت بڑا بوجھ تھے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے سرحد پر باڑ لگانے، افغان پناہ گزینوں کی واپسی سمیت پاکستان کے تجویز کردہ کئی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان پر افغان حکومت کو سوچنا چاہیے۔

یاد رہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے منسوب ایک بیان میں گزشتہ ہفتے پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور افغانستان کے اندر بے چینی اور بدامنی پیدا کرنے سمیت دراندازی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاچن سے فوج واپس بلانے سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان بعض تجاویز کا تبادلہ ہوا تھا اور بھارتی وزیراعظم نے اس بارے میں مثبت بیان دیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کے وزیر دفاع سے منسوب اس بیان پر اپنا رد عمل ظاہر نہیں کرنا چاہتیں جس میں کہا گیا ہے کہ سیاچن سے فوج واپس بلانے پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ سیاچین اور سرکریک کے متعلق بات چیت کے لیے پاکستانی وفد دلی روانہ ہوچکا ہے اور منگل کے روز باضابط بات چیت ہونی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سوئیز حکومت نے اسلام آباد میں اپنا سفارتخانہ بند نہیں کیا بلکہ وہ اپنا مکمل عملہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سوئیز حکومت اسلام آباد اور کراچی میں بھی اپنا نیا سفارتی عملہ تعینات کر رہی ہے اور بعض نے سوئیزرلینڈ میں ہمارے سفارتخانے سے رابطہ بھی کیا ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ کئی پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں سوئیز سفارتخانے میں داخل ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ جلد سے جلد وہ اپنا کام شروع کریں۔

گوانتاناموبے میں قید پاکستانیوں کے حالات جاننے کے لیے پاکستان حکومت کا وفد بھیجنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ اس ضمن میں کام کر رہی ہے اور جلد وفد روانہ کیا جائے گا۔

انہوں نے پاکستان کے جدہ قونصلیٹ جنرل سے سعودی عرب میں مقیم برمیوں کو پاکستانی پاسپورٹ جاری کرنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو چھیاسی میں اس وقت کے صدر پاکستان نے ایک حکم جاری کیا تھا جس کے تحت وہاں مقیم برمیوں کو پاکستان خصوصی پاسپورٹ جاری کرتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے غور ہورہا ہے اور جلد فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان برمیوں کو خصوصی پاسپورٹ جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھے یا نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد