’قتل میں آئی ایس آئی ملوث نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ایک نجی افغان چینل پر نشر ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں ایک طالبان کمانڈر کی طرف سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان میں اغوا ہونے والے بھارتی انجینیئر سوریا نارائنا کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکم پر قتل کیا گیا۔ پاکستان کی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ایک نامعلوم طالبان کمانڈر کی طرف سے ایسے الزام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اپنا نام چھپا کر ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور بھارتی شہریوں کے کسی بھی جگہ بے گناہ قتل ہونے کی مذمت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا بھارتی ذرائع ابلاغ ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف مخصکہ خیز الزام تراشی کرتے رہے ہیں جن کا بعد میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ واضح رہے کہ افغانستان کے ایک نجی ٹی وی چینل ٹولو کو ایک طالبان کمانڈر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ افغانستان کے زابل صوبے کے طالبان کمانڈر عامر حقانی بھارتی انجینیئر کو قتل کر دینے کے حق میں نہیں تھے تاہم ان کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکم پر ملا لطیف نے قتل کر دیا۔ اس خبر کے بعد افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے چیف آف سٹاف جاوید لودن نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان اس الزام کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرے گا۔ بھارتی انجینیئر سوریا نارائنا کو گذشتہ ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو اغوا کیا گیا تھا اور طالبان نے اس کی رہائی کے بدلے میں افغانستان میں موجود تمام بھارتی شہریوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم طالبان نے بھارتی انجینیئر کو تیس اپریل کو قتل کر دیا تھا اور اس کی سربریدہ لاش کو سڑک کے کنارے پھینک دیا گیا تھا۔طالبان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارتی انجینیئر نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی جس کے بعد اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں افغانستان میں بھارتی انجینیئر قتل30 April, 2006 | آس پاس خودکشی کی ناکام کوشش02 May, 2006 | انڈیا کرزئی، مشرف کے الزامات کی تردید06 March, 2006 | پاکستان باڑ لگانے پر غور کر سکتے ہیں: پاکستان06 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||