باڑ لگانے پر غور کر سکتے ہیں: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد جاری رہی تو پاکستان سنجیدگی سے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف بجا طور پر اس بات پر خفا ہیں کہ افغانستان کی حکومت نے صدر بش کے دورے سے قبل ایک لسٹ پاکستانی حکام کے حوالے کی جس میں پاکستان سے اعلی طالبان رہنماؤں اور دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق اس لسٹ کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھانہ کہ پاکستان حکومت سے ان افراد کے بارے میں انٹیلیجنس یا معلومات کا تبادلہ۔انھوں نے کہا کہ افغان حکومت نے ان معلومات کا تبادلہ نہ تو پاکستانی حکومت اور نہ ہی امریکی ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر اسی ہزار فوجی لگائے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ گذشتہ برس افغانستان میں ہونے والے انتخابات پر امن طریقے سے ہوں۔ تاہم ان کے مطابق افغانستان کی حکومت نے سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لئے اس طرح سے عمل پیرا نہیں ہوئی جس کا مظاہرہ پاکستان کی طرف سے کیا گیا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر مذید فوج کی تعیناتی ممکن نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی، اتحادی افواج اور افغانستان کی اپنی فوج ان دہشت گردوں کی پاکستان آمد کو روکے ورنہ پاکستان سرحد پر باڑ لگا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغانی جن کی تعداد ابھی بھی تیس لاکھ سے زیادہ ہے اگر وہ واپس چلے جائیں تو سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت کم ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر جارج بس کے دورہ پاکستان کے بارے میں ترجمان نے اس سوال سے اتفاق نہیں کیا کہ اس دورے میں پاکستان کی امیدیں بر نہیں آئیں۔انہوں نے کہا کہ صدر بش کا دورہ پاکستان کامیاب رہا اور اس میں پاکستان-امریکہ دفاعی بات چیت کو مربوط کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ ترجمان نے بریفنگ سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان مربوط بات چیت کے تیسرے دور کے بارے میں ورکنگ گروپ کی بات چیت کی تاریخیں بھی دیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کے بارے میں بات چیت مارچ کی ستائیس سے انتیس تاریخ کو اسلام آباد میں ہوگی جبکہ وولر بیراج کے مسئلے پر بات چیت اسلام آباد میں اٹھارہ اور انیس اپریل کو ہوگی۔سیاچن اور سرکریک کے مسئلے پر بات چیت مئی کے اواخر میں بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ہو گی اور دہشت گردی اور منشیات کی تجارت کی روک تھام کے بارے میں دونوں ممالک کے حکام ماہ مئی کے آخری دو روز اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے معاملات پر بات چیت پہلی اور دوسری جون کو نئی دلی میں ہو گی۔ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری جولائی میں مربوط مذاکرات کے تیسرے دور کا جائزہ لینے کے لئے نئی دلی میں بات چیت کریں گے جبکہ وزرا خارجہ بھی اسی ماہ نئی دلی میں مذاکرات کریں گے۔ | اسی بارے میں کرزئی لا علم ہیں: مشرف06 March, 2006 | پاکستان افغانستان: قابض قیدیوں کا مطالبہ27 February, 2006 | آس پاس برطانوی فوجیوں کی قندھار روانگی15 February, 2006 | آس پاس افغان جیل ہنگامہ، 4 قیدی ہلاک 27 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||