BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 February, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: قابض قیدیوں کا مطالبہ
پلِ چرخی جیل کابل
سکیورٹی افواج کا جیل میں داخلہ ممکن نہیں رہا
افغانستان میں کابل کی پل چرخی جیل کے ایک حصے پر قابض قیدیوں نے اپنے کئی مطالبات پیش کیئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اعلٰی سکیورٹی حکام سے مذاکرات کی اجازت دی جائے، جیل میں قیدیوں کو دیئے جانے والے کھانے بہتر بنائے جائیں اور قیدیوں کی وردی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے۔

دو روز قبل کابل کی پُلِ چرخی جیل میں ہنگاموں اور قیدیوں کے قبضے کے بعد سے اب تک سکیورٹی اہلکار اس جیل میں داخل ہونے سے قاصر ہیں۔

ذرائع کے مطابق جیل میں سات افراد ہلاک اور چھتیس زخمی بتائے گئے ہیں تاہم حکام نے اس کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنگاموں میں طالبان اور القاعدہ ارکان کے ساتھ ساتھ عام قیدی بھی شامل ہیں جن کے پاس اسلحہ تو نہیں ہے تاہم وہ چاقو اور ڈنڈوں سے لیس ہیں۔

ہفتے اور اتوار کو جیل میں فائرنگ سنائی دی تھی تاہم پیر کو صورتحال قدرے پرامن دکھائی دے رہی ہے۔

جیل کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ جیل سے صرف دو گولیاں چلنے کی آواز سنی گئی ہے اور جیل کے گرد سکیورٹی افواج کی تعداد بھی زیادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج نے بھی اس معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے اور دو ہیلی کاپٹر مستقل جیل کے اوپر پرواز کررہے ہیں۔

پل چرخی کی بدنام زمانہ جیل
یہ بدنام زمانہ جیل ہزاروں افغان قیدیوں پر مظالم ڈھائے جانے کے لیئے مشہور ہے۔ ماضی میں اس جیل میں قید کیئے جانے والے ہزاروں قیدی ایسے غائب ہوئے کہ انہیں پھر کسی نے نہیں دیکھا۔

اطلاعات کے مطابق بظاہر جیل کے ایک حصے پر قبضے کا واقعہ ہفتے کی رات دس بجے شروع ہوا جب جیل کے بلاک ٹو میں یونیفارم کے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ جس کے بعد دوسرے بلاک کے قیدیوں نے ان کی حمایت میں جیل کا فرنیچر نذر آتش کرنا شروع کردیا۔ اسی دوران کچھ مبینہ طالبان اور القاعدہ کے ارکان کی طرف سے فرار کی کوشش بھی کی گئی۔

جیل کے حکام نے بتایا کہ پولیس نے جیل کو سِیل کر دیا ہے اور کوئی قیدی فرار نہیں ہوا ہے۔

ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو خاتون محافظوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل کے 1350 قیدیوں نے خواتین کے حصے پر قبضہ کررکھا ہے۔

سینکڑوں قیدی اس وقت جیل میں خواتین کے لیے مخصوص حصے میں بند ہیں جہاں آگ بھی لگی ہوئی ہے۔ کچھ قیدیوں نے جیل کی دیواریں پھلانگنے کی کوشش کی ہے۔

جنرل ظاہر عظمی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ افغانستان کی فوج کے خصوصی دستے جیل میں وزارت داخلہ کے اہلکاروں کی مدد کر رہے ہیں۔

ایک افغان رکن پارلیمان نے اس صورتحال میں اسلحہ کے استعمال کی مدمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کو پر امن طور پر باہمی مذاکرات سے حل کرنا چاہئے۔

گزشتہ ماہ سات مشتبہ طالبان اسی جیل سے فرار ہوئے تھے اور کہا گیا تھا کہ جیل کے اہلکاروں نے ان کی فرار میں مدد کی تھی۔

پُلِ چرخی جیل انیس سو ستر کی دہائی میں کابل شہر کے نواح میں بنائی گئی تھی۔

یہ بدنام زمانہ جیل ہزاروں افغان قیدیوں پر مظالم ڈھائے جانے کے لیئے مشہور ہے۔ ماضی میں اس جیل میں قید کیئے جانے والے ہزاروں قیدی ایسے غائب ہوئے کہ انہیں پھر کسی نے نہیں دیکھا۔

اسی بارے میں
تین سو ستر پاکستانی رہا
12 September, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد