افغان جیل ہنگامہ، 4 قیدی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے ایک کارکن کے مطابق کابل کی پلِ چرخی جیل میں ہونے والے ہنگامے میں چار قیدی ہلاک اور 39 زخمی ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے یہ کارکن قیدیوں سے مذاکرات کے لیئے جیل کے اندر بھیجے جانے والے وفد میں شامل تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ہلاکتیں کیسے ہوئیں۔ ابھی تک افغان حکام ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ سکیورٹی دستوں نے ابھی تک جیل کی عمارت کو گھیرا ہوا ہے۔ پل چرخی کے نام سے جانے والی اس جیل کے ایک حصے پر قیدیوں نے قبضہ کر لیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ انہیں اعلٰی سکیورٹی حکام سے مذاکرات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جیل میں قیدیوں کو دیئے جانے والے کھانے بہتر بنائے جائیں اور قیدیوں کی وردی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے۔ دو روز قبل کابل کی پُلِ چرخی جیل میں ہنگاموں اور قیدیوں کے قبضے کے بعد سے اب تک سکیورٹی اہلکار اس جیل میں داخل ہونے سے قاصر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہنگاموں میں طالبان اور القاعدہ ارکان کے ساتھ ساتھ عام قیدی بھی شامل ہیں جن کے پاس اسلحہ تو نہیں ہے تاہم وہ چاقو اور ڈنڈوں سے لیس ہیں۔ ہفتے اور اتوار کو جیل میں فائرنگ سنائی دی تھی تاہم پیر کو صورتحال قدرے پرامن دکھائی دے رہی ہے۔ جیل کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ جیل سے صرف دو گولیاں چلنے کی آواز سنی گئی ہے اور جیل کے گرد سکیورٹی افواج کی تعداد بھی زیادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج نے بھی اس معاملے پر نظر رکھی ہوئی ہے اور دو ہیلی کاپٹر مستقل جیل کے اوپر پرواز کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بظاہر جیل کے ایک حصے پر قبضے کا واقعہ ہفتے کی رات دس بجے شروع ہوا جب جیل کے بلاک ٹو میں یونیفارم کے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ جس کے بعد دوسرے بلاک کے قیدیوں نے ان کی حمایت میں جیل کا فرنیچر نذر آتش کرنا شروع کردیا۔ اسی دوران کچھ مبینہ طالبان اور القاعدہ کے ارکان کی طرف سے فرار کی کوشش بھی کی گئی۔ جیل کے حکام نے بتایا کہ پولیس نے جیل کو سِیل کر دیا ہے اور کوئی قیدی فرار نہیں ہوا ہے۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو خاتون محافظوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل کے 1350 قیدیوں نے خواتین کے حصے پر قبضہ کررکھا ہے۔ سینکڑوں قیدی اس وقت جیل میں خواتین کے لیے مخصوص حصے میں بند ہیں جہاں آگ بھی لگی ہوئی ہے۔ کچھ قیدیوں نے جیل کی دیواریں پھلانگنے کی کوشش کی ہے۔ جنرل ظاہر عظمی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ افغانستان کی فوج کے خصوصی دستے جیل میں وزارت داخلہ کے اہلکاروں کی مدد کر رہے ہیں۔ ایک افغان رکن پارلیمان نے اس صورتحال میں اسلحہ کے استعمال کی مدمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کو پر امن طور پر باہمی مذاکرات سے حل کرنا چاہئے۔ گزشتہ ماہ سات مشتبہ طالبان اسی جیل سے فرار ہوئے تھے اور کہا گیا تھا کہ جیل کے اہلکاروں نے ان کی فرار میں مدد کی تھی۔ پُلِ چرخی جیل انیس سو ستر کی دہائی میں کابل شہر کے نواح میں بنائی گئی تھی۔ یہ بدنام زمانہ جیل ہزاروں افغان قیدیوں پر مظالم ڈھائے جانے کے لیئے مشہور ہے۔ ماضی میں اس جیل میں قید کیئے جانے والے ہزاروں قیدی ایسے غائب ہوئے کہ انہیں پھر کسی نے نہیں دیکھا۔ | اسی بارے میں افغانستان: جیل پر قیدی قابض26 February, 2006 | آس پاس کابل جیل سے فرار کی کوشش:7 ہلاک 17 December, 2004 | آس پاس قیدیوں کی تلاش میں بڑی کارروائی12 July, 2005 | آس پاس افغانستان: جیل پر طالبان کا حملہ24 September, 2005 | آس پاس تین سو ستر پاکستانی رہا12 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||