BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرزئی، مشرف کے الزامات کی تردید
کرزئی
حامد کرزئی نے فروری میں پاکستان کا دورہ کیا تھا
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کڑی تنقید کو رد کردیا ہے کہ افغانستان کے انٹیلیجنس اور دفاع کے شعبوں کی کارکردگی موثر نہیں ہے۔

صدر کرزئی کے ایک ایک اعلٰی مشیر نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ان تمام الزامات کو رد کردیا ہے جو انہوں نے سی این این سے ایک انٹرویو کے دوران افغانستان پر عائد کیئے تھے۔ صدر مشرف نے کہا تھا کہ افغانستان نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان کی موجودگی کے حوالے سے جو رپورٹ اسلام آباد کو دی تھی وہ پرانی تھی۔

افغان صدر کے مشیر ڈاکٹر دادفر سپانتا کا کہنا ہے کہ یہ بالکل حالیہ رپورٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی جو معلومات پاکستان کو فراہم کی گئی تھیں، پاکستان ان کے مطابق عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس سے قبل صدر مشرف نے افغانستان کے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ پاکستان طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں سے لڑائی میں افغان حکام سے تعاون نہیں کر رہا۔ ان شدت پسندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کر ہے ہیں۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان پر اس طرح کے الزامات افغان خفیہ اداروں کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

صدر مشرف نے یہ بھی کہا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی اس بات سے ’لاعلم‘ ہیں کہ ان کےاپنے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کے حوالے سے زیادہ پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہا کہ حامد کرزئی نے گزشتہ ماہ طالبان رہنما ملا عمر اور ان کے قریبی ساتھیوں کے پاکستان میں روپوش ہونے کے بارے میں جو معلومات دی تھیں وہ پرانی اور بے کار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مفرور افغان لیڈر کے ٹھکانے کے بارے میں افغان انٹیلیجنس رپورٹ ’نان سنس‘ہے۔

انہوں نے ٹی وی چینل کو کہا کہ ’ہم نے اس فہرست کی اچھی طرح چھان پھٹک کی ہے۔اس کا دوتہائی حصہ تو ایک مہینہ پرانا ہے اور بے کار ہو چکا ہے اس میں کچھ نہیں ہے۔‘

صدر مشرف نے کہا کہ وہ جن ٹیلی فون نمبروں کی بات کرتے ہیں ان میں سے دو تہائی بند ہوچکے ہیں۔ اس بارے میں امریکی سی آئی بھی جانتی ہے کیونکہ ہم ان کے ساتھ تمام معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

صدر مشرف کے بقول (افغانستان کی) وزارت دفاع اور انٹیلجنس سیٹ اپ میں پاکستان کے خلاف سازش کی جارہی ہے اور انہوں نے اس بارے میں صدر کرزئی کو آگاہ کردیاہے جو ان کے مطابق خود اس معاملے سے نمٹ لیں گے۔

اسی بارے میں
ملا عمر کو رابطے کی پیشکش
09 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد