BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 January, 2006, 00:08 GMT 05:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملا عمر کو رابطے کی پیشکش
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کی غرض سے طالبان رہنما ملا محمد عمر کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں۔

تاہم حامد کرزئی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہیں یہ توقع نہیں ہے کہ ملا عمر اپنی روپوشی ختم کرکے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا ’اگر ملا عمر سامنے آنا چاہیں تو انہیں ہم سے رابطے میں رہنا چاہیے۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔‘

افغان صدر نے ملا عمر سے بات چیت کی پیشکش تو کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طالبان کے سربراہ کو اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ حامد کرزئی نے یہ بھی کہا کہ طالبان کے وہ لوگ جو افغان حکومت کے ساتھ بات چیت میں شریک ہونا چاہتے ہیں انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

گزشتہ سال مئی میں طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ملا عمر معافی کی کسی بھی پیشکش کو مسترد کر دیں گے۔ اس زمانے میں ایک مصالحتی کمیٹی نے اس قسم کی ایک پیشکش کی تھی جس کے جواب میں ملا عمر کے ترجمان کا ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

افغانستان میں اب تک کی پیش رفت کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں طالبان جنگجو اور ان کے حامی مصالحت کے عمل میں شریک ہو چکے ہیں۔ ان میں طالبان کے کئی سینئر کمانڈر اور سیاسی رہنما شامل جنہیں سخت گیر تحریک سے علیحدہ ہونا پڑا اور جس کے جواب میں انہیں سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا گیا۔

افغان صدر نے کہا کہ بیرونی مافیا کے گروہ مقامی مسلح انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر ملک میں منشیات کی پیداوار کر رہے ہیں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ یہ افراد مقامی کاشت کاروں کو ڈرا دھمکا کر افیون کی کاشت پر مجبور کر رہے ہیں۔

’ہمارے پاس اس طرح کی خبریں ہیں کہ کئی مسلمان ممالک سمیت دنیا کے کئی دیگر ملکوں سے ڈرگ مافیا کے لوگ یہاں آ رہے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو افیون کی کاشت پر مجبور کر رہے ہیں۔ تاہم ہمیں ہر محاذ پر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ افغانستان کو منشیات کا مقابلہ کرنا ہے ورنہ ہم ایک آزاد قومی ریاست کے طور پر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔‘

اسی بارے میں
طالبان دعوے پر قائم
15 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد