طالبان کے حملے میں بارہ ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں طالبان کے حکومتی اہلکاروں پر حملے میں سات پولیس افسران اور پانچ طالبان جنگجو ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق صوبہ ہلمند میں طالبان نے مشین گنوں اور راکٹوں کی مدد سے ضلعی دفاتر پر حملے کئے۔ پولیس کے سربراہ حاجی بہادر خان نے بتایا ہے کہ تین گھنٹے جاری رہنے والی اس لڑائی میں مرنے والے سات افسران کے علاوہ چھ دیگر افسران زخمی بھی ہوئے۔ افغانستان کا جنوبی علاقہ شدید لڑائی اور مزاحمت کا گڑھ ہے جہاں اس سال میں 1400 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ مرنے والے طالبان کے علاوہ کچھ زخمی بھی ہوئے لیکن وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران حکومتی دفاتر اور پولیس کی چار گاڑیوں کو بھی تقصان پہنچا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر نیٹو نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اگلے برس نیٹو کے مزید چھ ہزار فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: ’بھتہ خوروں‘ کے سر قلم09 December, 2005 | پاکستان ’طالبان‘ کارروائیاں: نو ہلاک10 November, 2005 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس ہلمند میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک11 October, 2005 | آس پاس ’امریکی غلطی‘: چار افغان ہلاک 07 October, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||