BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 June, 2005, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم نے کوئی مذاکرات نہیں کیے‘
جلال طالبانی
ڈونلڈ رمزفیلڈ کے مطابق امریکہ ایسے مذاکرات میں سہولتیں پیدا کر رہا ہے
عراقی صدر جلال طالبانی نے امریکی وزیرِ دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ عراقی حکومت نے مزاحمت کاروں سے مذاکرات کیے ہیں۔

منگل کو جلال طالبانی نے کہا ’عراقی حکومت کا مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔‘

طالبانی عراق میں امریکہ کی طرف سے اقتدار کی عراقی حکومت کو منتقلی کا ایک سال پورا ہونے پر اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

ادھر عراق میں تشدد میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور اقتدار کی حکومت کو منتقلی کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک خود کش بمبار نے عراق کے پرانے قانون ساز کو دھماکے سے ہلاک کر دیا۔

جب سے عراقی حکومت کی تشکیل ہوئی ہے ایک ہزار سے زیادہ افراد جن میں زیادہ تعداد عراقیوں کی ہے، مارے جا چکے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ امریکہ عراقی اہلکاروں اور مزاحمت کاروں کے درمیان ملاقاتوں میں باقاعدگی سے سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

تاہم جلال طالبانی نے واضح طور پر ڈونالڈ رمزفیلڈ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اگر امریکی مزاحمت کاروں سے بات چیت کر رہے ہیں تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ جلال طالبان کے اس بیان سے امریکی انتظامیہ کو کوئی خوشی نہیں ہوگی۔

امریکہ میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے لوگوں کی حمایت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور رائے دینے والوں میں سے چھپن فیصد امریکی انتظامیہ کی عراق پر پالیسی کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد