کرزئی مخالف ایوان زیریں کے سربراہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی کے سیاسی حریف یونس قانونی کو پارلیمان کے ایوان زیریں (وولسی جرگہ) کا صدر چن لیا گیا ہے۔ یونس قانونی کو رائے دہی کے دوسرے مرحلے میں چنا گیا کیونکہ پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار بھی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکا تھا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ کافی بااثر تصور کیا جاتا ہے۔ سن 2004 کے صدارتی انتخابات میں کرزئی نے یونس قانونی کو شکست دے کر صدارت حاصل کی تھی۔ بدھ کو رائے دہی کے دوسرے مرحلے میں یونس قانونی نے رسول سیاف کو ہرایا ہے جوکہ کرزئی کے حامی ہیں۔ پہلے مرحلے میں دونوں نے بالترتیب 108 اور 88 ووٹ حاصل کیے یعنی کوئی بھی 51 فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکا۔ اسی وجہ سے رائے دہی دوبارہ کرنا پڑی۔ اس سے قبل سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی کو پارلیمان کے ایوان بالا کا سربراہ چنا گیا تھا۔ کئی حلقوں نے خدشہ ظا ہر کیا تھا کہ انتخابات کے بعد ملک کی قانون سازی ان افراد کے ہاتھ میں نہ چلی جائے جن پر ماضی میں جنگجو ہونے کا الزام ہے۔ اب پارلیمان کے ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں ہی کے سربراہان کا تعلق ماضی میں مجاہدین سے رہ چکا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان سمیت چار ملکوں میں زلزلہ 12 December, 2005 | صفحۂ اول نومنتخب افغان پارلیمینٹ کا پہلا اجلاس19 December, 2005 | آس پاس افغان پارلیمان کا افتتاحی اجلاس19 December, 2005 | آس پاس افغانستان میں نیٹو فوج پر حملہ20 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||