افغان پارلیمان کا افتتاحی اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں لگ بھگ تین عشروں کے بعد وجود میں آنے والی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں صدر حامد کرزئی نے اراکین سے حلف لیا۔ افتتاحی اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس کے اہم غیرملکی شرکاء میں امریکی نائب صدر ڈِک چینی بھی شامل تھے۔ تقریب میں افغانستان کے سابق صدرِ مملکت ظاہر شاہ کی ایک مختصر تقریر کے بعد صدر حامد کرزئی نے تین سو اکیاون اراکین پارلیمان سے حلف لیا۔ انیس سو تہتر میں ایک بغاوت کے دوران ظاہر شاہ کی حکومت برطرف کردی گئی تھی اور اس کے بعد سے ملک خانہ جنگی اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا شکار رہا تھا۔ حامد کرزئی نے اراکین پارلیمان سے کہا کہ نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ’جمہوریت کی جانب ایک پیش قدمی‘ اور قومی اتحاد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا: ’اس اجتماع سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے عوام متحد ہیں۔ جمہوریت کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔‘
افغانستان کی نئی پارلیمان دو ایوانوں پر مبنی ہے اور ستمبر کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آئی ہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقد کرائےگئے تھے۔ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ افغانوں نے صوبائی کونسلوں کا انتخاب بھی کیا تھا جن کے اراکین نے پارلیمان کے ایوان بالا کے لیے ایک سو دو اراکین منتخب کیے۔ ایوان زیریں میں دو سو انچاس اراکین ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے دوران صدر حامد کرزئی نے نئے اراکین پارلیمان سے کہا کہ افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ پارلیمان میں ایک تہائی اراکین خواتین ہیں۔ پارلیمان کی سب سے کم عمر رکن پچیس سالہ سبرینہ ثاقب ہیں۔ نئی پارلیمان میں سابق طالبان کارکن، اسی کے عشرے میں سرگرم کمیونسٹ سیاست دان اور جنگی سردار شامل ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض لوگ نئی پارلیمان میں ایسے افراد کی شمولیت پر فکرمند ہیں جو گزشتہ دو عشروں کی خانہ جنگی کے دوران سرگرم تھے۔ موجودہ اسمبلی کے تمام ارکان غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر آئے ہیں۔ افتتاحی اجلاس دو گھنٹے جاری رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنےوالے دنوں میں سیاسی استحکام اور ملک میں سکیورٹی کے معاملات نئے اراکین کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوں گے۔ افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق طالبان سمیت کئی افغان دھڑوں نے ستمبر میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سمیت چند سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے دور رکھا گیا۔ | اسی بارے میں افغان انتخابات کے نتائج کا اعلان12 November, 2005 | آس پاس افغانستان سارک کا رکن بن گیا13 November, 2005 | آس پاس کابل: مبینہ خودکش حملے، 3 ہلاک14 November, 2005 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس ایوان بالا کےلیے34 ار کان کا تقرر11 December, 2005 | آس پاس نومنتخب افغان پارلیمینٹ کا پہلا اجلاس19 December, 2005 | آس پاس ’طالبان حوالے کرنے کاخیرمقدم‘ 27 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||