کابل: مبینہ خودکش حملے، 3 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔ پیر کو ہونے والے یہ دھماکے کابل کو جلال آباد سے ملانے والی سڑک پر ہوئے۔ ایک افغان افسر جنرل محبوب امیری کا کہنا تھا کہ دونوں دھماکے خودکش حملے تھے‘۔ پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام تین بجے ہوا اور اس میں نیٹو کی امن فوج کے ایک جرمن رکن سمیت دو افغانی بھی مارے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے اپنی ٹویوٹا کرولا کار کابل کی طرف جانے والی سڑک پر’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘ کی گاڑی سے ٹکرا دی۔ اس دھماکے کے ایک گھنٹے بعد اسی سڑک پر ایک اور دھماکہ ہوا جس میں یونانی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ نیٹو کا کہنا ہے اس کے فوجیوں نے تیسرے دھماکے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ایک شخص نے جو کہ اپنے آپ کو طالبان کا ترجمان ظاہر کرتا تھا کہا ہے کہ طالبان نے ہی پیر کو ہونے والے حملے کیے ہیں۔ طالبان نے ستمبر میں کابل میں ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ عراق کے مقابلے میں افغانستان میں خود کش دھماکے عام نہیں تاہم ان دھماکوں نے اعلٰی حکام میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ | اسی بارے میں ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس ہلمند میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک11 October, 2005 | آس پاس ’امریکی غلطی‘: چار افغان ہلاک 07 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||