BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 December, 2005, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایوان بالا کےلیے34 ار کان کا تقرر
منتخب نمائندے
انیس دسمبر سے ملک کی پہلی منتخب اسمبلی اپنا کام شروع کر دے گی۔
افغانستان کےصدر حامد کرزئی نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کی پارلیمنٹ کےایوان بالا کے لیے چونتیس افراد کا تقرر کیا ہے۔

انیس دسمبر سے ملک کی پہلی منتخب اسمبلی اپنا کام شروع کر دے گی۔ ان افراد کے ناموں کا اعلان کابل میں ایک تقریب میں کیا گیا۔

اس تقریب میں تیس سالوں سے زائد عرصے میں بننے والی ملک کی پہلی پارلیمنٹ کے تین سو پچاس منتخب نمائندوں نے شرکت کی۔

ان منتخب نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صدیوں سے ملک میں قائم دھڑے بندیوں کو ختم کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔

صوبہ پکٹیکا سے منتخب ایک ایم پی خالد فاروق نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ ’ہم اپنے ملک کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے دوبارہ تباہ کرنا نہیں چاہتے۔ افغانستان کو متحد ہونا چاہیے‘۔

انیس سو ستر کے بعد سے افغانستان میں عوامی نمائندوں پر مشتمل منتخب اسمبلی نہیں بنی۔ روس کے ملک سےچلے جانے کے بعد افغانستان دھڑے بندیوں کا شکار ہو گیا تھا۔

ملک میں پارلیمان کے انتخابات اس سال سمتبر میں ہوئے تھے اور ملک میں دو ہزار ایک میں طالبان کے زوال کے بعد جمہوریت کا دور دورہ ہوا۔

ایک اور ایم پی قاضی سوریا اخمند یار نے بتایا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مزاحمت پر قابو پانے کے لیے ایجنڈے میں سکیورٹی کے معاملے کو سر فہرست رکھا جائے گا۔

منتخب نمائندوں کو نئے نظام سے متعارف کروانے کے لیے ایک ایک ہفتے پر مشتمل ایک تعارفی پروگرام ترتیب دیا گیا۔

اتوار کو ملک کے جنوبی شہر قندھار میں ایک مشتبہ خود کش حملہ آور نے خود کو بم سےاڑا لیا۔ اس حملے میں تین شہری بھی زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

بظاہر حملہ آور نے امریکی فوجیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن اس حملے میں کوئی بھی فوجی متاثر نہیں ہوا۔

ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں طالبان کی جانب سے جاری مزاحمت پر قابو پانے کے لیے امریکی فوج کے بیس ہزار فوجی مصروف عمل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد