افغانستان: ووٹروں کا تناسب گرگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے پارلیمانی اور صوبائی انتخابات میں اتوار کو ہونے والی ووٹنگ میں ووٹ ڈالنے کا تناسب گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے بیس فیصد کم رہا۔ حکام کے مطابق کل رجسٹرڈ ووٹروں کے صرف پچپن فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ ڈالنے کے کم تناسب کی کئی ایک وجوہات دی جارہی ہیں۔ بہت سے ووٹروں کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کے حق میں ووٹ نہیں ڈال سکتے جو ان کے خیال میں جنگجو ہیں یا مسلح گروہ چلاتے رہے ہیں۔ اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ انتخابی عمل بہت پیچیدہ تھا۔ افغانستان میں اتوار کو پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کا انعقاد تیس سال بعد ہوا ہے۔ ملک بھر میں قائم پولنگ سٹشنوں سے اب بیلٹ بکسوں کو ووٹوں کی گنتی کرنے کے لیے قائم کئے گئے مراکز میں پہنچایا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کا کام منگل سے شروع کیا جائے گا۔ افغانستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں ایک فرانسیسی سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تشدد کے ان واقعات سے ووٹنگ کے تناسب پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ان انتخابات میں ملک بھر سے پانچ ہزار آٹھ سو امیدواروں نے دو الیکشنوں میں حصہ لیا ہے۔ ہزاروں غیر ملکی اور افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں کو انتخابات میں ممکنہ تشدد کے پیش نظر چوکس رہنے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ افغان صدر حامد کرزائی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے بعد اس کو افغانستان کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||