افغانستان میں پولنگ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تیس سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمانی اور صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ کا آغاز سست تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ رفتار میں تیزی آ گئی۔ پولنگ کے موقع پر ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں چھ افراد ہلاک ہوئے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کا ووٹنگ کی شرح پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر پچھلے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں کم رش دیکھا گیا۔ افغانستان میں ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹرز کو چھ ہزار نمائندے منتخب کرنے تھے۔ اس موقع پر چھبیس ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے۔ انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان اکتوبر کے آخر میں کیا جائے گا۔ انتخابات سے قبل تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور طالبان کے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر ملک بھر میں چالیس ہزار سے زائد پولیس والے اور فوجی پولنگ سٹیشنوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ تیس ہزار امریکی اور نیٹوں کے فوجی بھی سکیورٹی آپریشنز کے لیے موجود رہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ووٹ ڈالنے کے عمل کو تاریخ ساز قرار دیا۔ قندھار میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ انتخابات میں حصہ لینے والی گاڑیوں کے علاوہ کسی بھی گاڑی کو شہر کی سڑکوں پر چلانے پر پابندی تھی۔ بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے علاوہ دیگر شہروں میں کم گہما گہمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جلال آباد سے میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا کہ عورتوں کی ایک بڑی تعداد ووٹ ڈالتی نظر آ رہی تھی اور ان کی تعداد مرد ووٹروں سے بھی زیادہ نظر آتی تھی۔ طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ’پولنگ سٹیشنوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اس میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے‘۔ اس اعلان کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے لگر صوبے میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب سے راکٹ برآمد کیے تھے۔ افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سات انتخابی امیدواروں سمیت ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||