افغان انتخابات کے نتائج کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک عہدہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے صوبہ قندھار کے نتائج کی بھی تصدیق کر دی ہے، اور اس طرح آخری صوبے کے نتائج بھی مکمل ہو گئے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی عبدالقیوم کرزئی ایوانِ زیریں کے ممبر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس دوران کونسل ممبران ایوانِ بالا کے لیے اپنے نمائندگان کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ستمبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد 33 صوبوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا تھا لیکن صوبہ قندھار کے نتائج تاخیر کا شکار ہو گئے تھے، جس کی وجہ انتخابی عمل میں دھاندلی اور فراڈ کی شکایات تھیں۔ افغانستان اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ الیکشن کمیشن نے اب ’کچی‘ کے نتائج کی بھی تصدیق کر دی ہے جس کا تعلق خانہ بدوش چرواہوں کی آبادی سے ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ نے بتایا کہ فراڈ کے ان الزامات کی تحقیقات میں تاخیر نے بہت سے افغانیوں کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایک امیدوار کو دھاندلی ثابت ہونے پر اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑے۔ تاہم اس امیدوار کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسے حامد کرزئی کے حمایت یافتہ لوگوں کی جانب سےانتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ قندھار افغان صدر حامد کرزئی کا آبائی صوبہ ہے اور ان کے دو بھائیوں نے اس صوبہ کے انتخاب میں حصہ لیا۔ ان کے ایک بھائی عبدالقیوم پارلیمانی نشست کے لیے صوبہ بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے دوسرے بھائی احمد ولی کرزئی صوبائی کونسل کے انتخاب میں سرِفہرست رہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے زیادہ تر امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے تھے۔ اس لیے مجموعی سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرنا بہت مشکل ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ نگار علی امیری نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حامد کرزئی کی حکومت کو 50 فیصد سے زائد ممبران کی حمایت حاصل ہے۔ ایوانِ بالا کے انتخاب کا مرحلہ ہفتے کے روز سے شروع ہو گیا ہے۔ ہر کونسل ایوانِ بالا میں نمائندگی کے لیے دو افراد کا انتخاب کرے گی۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے تقریباً تین برس بعد یہ افغاستان کی نوزائیدہ جمہوریت کا اگلا مرحلہ ہے۔ قندھار میں ایوانِ بالا کے انتخاب کے مرحلے کا آغاز بعد میں ہوگا۔ صوبہ ہلمند بھی ابھی اس مرحلے میں شامل نہیں ہے۔ اِن نومنتخب صوبائی کونسلوں کو ایوانِ بالا کے دو تہائی اراکین کا انتخاب کرنا ہے جبکہ باقی ایک تہائی ممبران کا انتخاب صدر حامد کرزئی کریں گے۔ | اسی بارے میں افغانستان صدارتی انتخابات: امیدوار10 August, 2004 | آس پاس افغان انتخابات، سکیورٹی اہم مسئلہ 07 September, 2004 | آس پاس افغانستان: ووٹوں کی گنتی شروع14 October, 2004 | آس پاس ’افغانستان، انسانی حقوق کی پامالی‘14 December, 2004 | آس پاس حامد کرزئی بھی ذمہ دار ہیں: امریکہ22 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||