BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 November, 2005, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان سارک کا رکن بن گیا

 اب سارک سات کی بجائے آٹھ ممالک کی تنظیم بن گئی ہے۔
اب سارک سات کی بجائے آٹھ ممالک کی تنظیم بن گئی ہے۔
افغانستان جنوبی ایشیاء کے ممالک کی تنظیم سارک کا باقاعدہ رکن بن گیا ہے۔ تنظیم کی بیس سالہ تاریخ میں افغانستان پہلا ملک ہے جسے اس کی رکنیت دی گئی ہے۔

سارک ممالک کے سربراہان کے ڈھاکہ اجلاس کے آغاز پر افغانستان کو تنظیم کا رکن بنائے جانے کی تجویز پر اختلافات پائے جا رہے تھے لیکن سربراہان کی تفریحی مقام پرغیر رسمی بات چیت کے دوران یہ اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔

افغانستان کو رکنیت دیے جانے کا اعلان غیر متوقع طور پر سارک کی موجودہ سربراہ خالدہ ضیاء کی بجائے بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی تقریر میں کیا۔

افغانستان کی باقاغدہ رکنیت کا انکشاف کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتوں کا ذکربھی کیا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں سارک کے چارٹر میں ترمیم کی جائے گی اور اسے آئندہ سات کی بجائے آٹھ ممالک کی تنظیم کے طور پرجانا جائے گا۔

چین اور جاپان کی طرف سے سارک کے مبصر بنائے جائے کی درخواستوں کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ان پر تنظیم کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں غور ہوگا۔

وزراء خارجہ دونوں ممالک کے مبصر بنائے جانے کے بارے میں قوائد و ضوابط طے کریں گیں جبکہ اس بات کا حتمی فیصلہ اگلے سال بھارت میں سارک ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد