افغانستان سارک کا رکن بن گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان جنوبی ایشیاء کے ممالک کی تنظیم سارک کا باقاعدہ رکن بن گیا ہے۔ تنظیم کی بیس سالہ تاریخ میں افغانستان پہلا ملک ہے جسے اس کی رکنیت دی گئی ہے۔ سارک ممالک کے سربراہان کے ڈھاکہ اجلاس کے آغاز پر افغانستان کو تنظیم کا رکن بنائے جانے کی تجویز پر اختلافات پائے جا رہے تھے لیکن سربراہان کی تفریحی مقام پرغیر رسمی بات چیت کے دوران یہ اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ افغانستان کو رکنیت دیے جانے کا اعلان غیر متوقع طور پر سارک کی موجودہ سربراہ خالدہ ضیاء کی بجائے بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی تقریر میں کیا۔ افغانستان کی باقاغدہ رکنیت کا انکشاف کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتوں کا ذکربھی کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سارک کے چارٹر میں ترمیم کی جائے گی اور اسے آئندہ سات کی بجائے آٹھ ممالک کی تنظیم کے طور پرجانا جائے گا۔ چین اور جاپان کی طرف سے سارک کے مبصر بنائے جائے کی درخواستوں کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ان پر تنظیم کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں غور ہوگا۔ وزراء خارجہ دونوں ممالک کے مبصر بنائے جانے کے بارے میں قوائد و ضوابط طے کریں گیں جبکہ اس بات کا حتمی فیصلہ اگلے سال بھارت میں سارک ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: پاک بھارت موقف برقرار12 November, 2005 | پاکستان افغانستان: ووٹوں کی گنتی شروع14 October, 2004 | آس پاس بھارت، افغانستان تعاون28 August, 2005 | Debate بھارت اورافغانستان میں تعاون: آپ کی رائے28 August, 2005 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||