کشمیر: پاک بھارت موقف برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈھاکہ میں سارک سربراہ اجلاس کے بعد پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات پچاس منٹ تک جاری رہی جس میں سے ابتدائی بیس منٹ دونوں رہنماؤں نے وفود کے ہمراہ بات چیت کی اور آدھے گھنٹے تک دونوں وزرائےاعظم نے تنہائی میں ملاقات کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے اس ملاقات کو اطمینان بخش قرار دیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی وزیرِاعظم شوکت عزیز نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بھارت کا شکریہ ادا کیا جبکہ بھارت کی جانب سے مزید امداد کی پیش کش کی گئی۔ تاہم اس بات چیت کے دوران کشمیر کے معاملے پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سامنے اپنا مؤقف دہرایا۔ ظفر عباس کے مطابق پاکستانی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ پاک بھارت حالات اس وقت ہی بہتر ہو سکتے ہیں جب کشمیر پر بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھے جبکہ بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا جو فقدان پایا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی ہے اور جب تک اس پر قابو نہیں پایا جاتا حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ اس سے قبل بھارت نے سارک اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے چین کو سارک تنظیم میں بطور مبصر شامل کرنے کی تحریک کی بھی محالفت کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ سارک کے چارٹر میں کسی ملک کے بطور مبصر کردار ادا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ | اسی بارے میں سارک: اہم موضوعات زیر غور12 November, 2005 | آس پاس سارک دنیا کا سب سے بڑا بلاک12 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||